کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں ،جناب مودبانہ گزارش ہے کہ میرا نام کشورناز ہے ،میری شادی کو
آٹھ سال ہوگئے ہیں ، اور میرے دو بچے ہیں ،اکتوبر 2024،کو میرے شوہر نے دوسری شادی کی ہے اور مجھے ان سے الگ ہوئےڈھائی سال ہوگئے ہیں ،اس دوران نہ وہ مجھ سے ملنے آئےاور نہ ہی کوئی رابطہ کیا ،میں اپنی بچوں کا خرچہ خود اٹھا رہی ہو ں جس کے لئے مجھے ملازمت کرنی پڑرہی ہے،میرے والد نہیں ہے اور کوئی بھی سہارہ نہیں جو میری مالی مدد کرسکے،اب میرے شوہر مجھے طلاق دےرہے ہیں،میرا مسئلہ یہ ہے کہ طلاق کے بعد عدت گزارنی پڑتی ہے لیکن میں ملازمت نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ مجھے اپنے بچوں کی کفالت کرنی ہے ، کیا میں دوران عدت اپنی ملازمت پر جاسکتی ہوں؟ برائے مہر بانی مجھے آگاہ کریں کیونکہ جاب کے دوران مجھے مرد حضرات کا سامنا بھی کرنا پڑیگا ،نیز سائلہ کے پاس اس قدر سیونگ نہیں ہے کہ عدت کا زمانہ گھر بیٹھ کر گزار سکے ،اور کوئی بھائی بھی کفالت کے لئے تیار نہیں ۔
صورت مسئولہ میں درج کردہ تفصیل کے مطابق اگر سائلہ کا شوہر اسے طلاق دیکر اپنی زوجیت سے الگ کرے تو ایسی صورت میں سائلہ کے ایام عدت کا نان ونفقہ اسی طرح بچوں کی کفالت پر آنے والے ضروری اخراجات سائلہ کے شوہر کے ذمہ لازم ہونگے،لہذا سائلہ کے شوہر پر لازم ہے کہ وہ سائلہ اور اپنے بچوں کے اخراجات پورے کرکے مواخذہ دنیوی واخروی سے سبکدوشی حاصل کرے،لیکن اگر سائلہ کاشوہر سائلہ کے ایام عدت کا نان ونفقہ ادا نہ کرے اور اس سے نان ونفقہ وصول کرنے کی شرعی و قانونی کوئی صورت بھی ممکن نہ ہو اور سائلہ کا کوئی اور (بھائی وغیرہ ) کفالت کے لئے موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کے لئے دوران عدت بھی اپنی ملازمت کے سلسلہ میں دن کو گھر سے نکلنے کی گنجائش ہے جبکہ رات کو اپنے گھرواپس آنا لازم ہوگا۔
کما فی البحر الرائق: قوله ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل) لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا.والحاصل أن مدار الحل كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها كذا في فتح القدير وأقول: لو صح هذا عمم أصحابنا الحكم فقالوا لا تخرج المعتدة عن طلاق أو موت إلا لضرورة؛ لأن المطلقة تخرج للضرورة بحسبها ليلا كان أو نهارا(ج:4،ص:166)
وفیہ ایضاً: قوله وتعتدان في بيت وجبت فيه إلا أن تخرج أو ينهدم) أي معتدة الطلاق والموت يعتدان في المنزل المضاف إليهما بالسكنى وقت الطلاق والموت ولا يخرجان منه إلا لضرورة (ج:4،ص:167)