السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! مفتی صاحب ہمیں ایک مسئلہ میں شرعی رہنمائی درکار ہے ،وہ مسئلہ یہ ہےکہ میرا بھانجااور بھائی آپس میں مذاق کررہے تھے جس میں وہ حد سے آگے بڑھ گئے اور مذاق جھگڑے جیسی صورت اختیار کرگئی تو اس دوران میرے بھانجے (بلال) نے یہ جملہ کہا کہ ”اگر آپ مجھ سے باز نہیں آئے میاں صاحب میں ہر اتوار کو یہاں آتاہوں آ پ مذاق میں میری بےعزتی کرتے ہیں تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی ،اورمیں یہاں رات گزارنے نہیں آؤنگا“اس کے بعد میں نے اپنے بھانجے کو وہاں سے بھیج دیا ،اب تقریبا دس دن ہوگئے ہیں وہ ڈیرے پہ نہیں آیا ہے ، اور اس کے دوست میاں صاحب نے اس سے کہا ہے کہ میں آپ سے مذاق نہیں کرونگا، اگر آپ سلام کریں گے تو میں بھی سلام کروں گا اور اگر آپ میرے ساتھ سلام بھی نہیں کریں گے تو میں بھی آپ سے کچھ نہیں کہونگا،
اب پوچھنا یہ ہےکہ کیا اس طرح جملہ کہنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں ؟
نوٹ:موقع پر موجود لوگوں کا بھی کہنا ہےکہ بلال نامی شخص نے کچھ ایسا ہی جملہ کہا تھا جو سوال میں مذکور ہے ۔
واضح ہوکہ طلاق کو اگر کسی شرط کے ساتھ معلق کیا جائے تو اس شرط کے پائے جانے کی صورت میں ہی طلاق واقع ہوتی ہے،اور جب شرط ہی وجود میں نہ آئے تو طلاق بھی واقع نہیں ہوتی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں مسمی ”بلال“کا مذکور جملہ" اگر آپ مجھ سے باز نہیں آئے میاں صاحب میں ہر اتوار کو یہاں آتاہوں آ پ مذاق میں میری بے عزتی کرتے ہیں تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی ،اورمیں یہاں رات گزارنے نہیں آؤنگا " کہنے سے اگر چہ فی الحال طلاق واقع نہیں ہوئی،البتہ مذکور جملہ فقط ایک دفعہ کہنے کی صورت میں ایک طلاق رجعی معلق ہوچکی ہے، لہذا اب جب بھی مسمی ”بلال “کا مذکور شخص (میاں صاحب)مذاق اڑائے گا تو اس سے اس کی بیوی پرایک طلاقِ رجعی واقع ہوجائے گی،جس کا حکم یہ ہے کہ مسمی ”بلال “ کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار ہوگا ،چنانچہ اگر ”بلال“ عدت کے اندر زبانی طورپر رجوع کرلے (مثلاً میں رجوع کرتا ہوں وغیرہ الفاظ کہہ دے ) یا عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لے یابیوی کو شہوت کے ساتھ چُھولے تو اس سے رجوع ہو جائیگا اور دونوں کا نکاح بدستور بر قرار رہے گا،تاہم آئندہ کیلئے اس کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔
کما فی الھندیۃ: إذا وجد الشرط انحلت اليمين الخ(کتاب الطلاق،الباب الرابع في الطلاق بالشرط،الفصل الأول في ألفاظ الشرط،ج1،ص315،ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: بخلاف ما إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع الخ(کتاب الطلاق،فصل في قوله أنت طالق إن شئت،ج3،ص 122،ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی الهدايۃ :وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض( الی قولہ)والرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي وهذا صريح في الرجعة (الی قولہ )قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو بنظر إلى فرجها بشهوة الخ(کتاب الطلاق، باب الرجعۃ،ج2،ص254،ط:دار احیاء التراث العربی)۔