السلام علیکم، مزاج بخیر۔
حضرت! میرے بیٹے کا نکاح ہوا تھا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ہم مسلسل رخصتی کا کہتے رہے ، مگر لڑکی والے ٹال مٹول سے کام لیتے رہے، یہاں تک کہ بات طلاق تک پہنچ گئی،
اب لڑکی حقِ مہر، عدت کے اخراجات اور نان و نفقہ کا مطالبہ کر رہی ہے،
آپ سے رہنمائی کی درخواست ہے اور اس مسئلے میں فتویٰ درکار ہے،
واضح رہے کہ نکاح کے بعد نہ رخصتی ہوئی اور نہ ہی کسی قسم کا ازدواجی تعلق قائم ہوا۔
صورت مسئولہ میں نکاح کے بعد اگر رخصتی نہ ہوئی ہو اور ازدواجی تعلق بھی قائم نہ ہوا ہو یا اس کے قائم مقام خلوت صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی جس میں ازدواجی تعلق قائم کرنےمیں کوئی امر شرعی مانع نہ ہو )کا موقع میسر نہ آیا ہو ، اور میاں بیوی کے درمیان طلاق واقع ہوجائے تو اس صورت میں شوہر پر مقرر مہر کانصف اداکرنا لازم ہوتاہے، اور عورت پر عدت بھی لازم نہیں ہوتی ، لہٰذا مذکورہ صورت میں لڑکی کا پورا مہر ، عدت کےاخراجات اور نان نفقہ کامطالبہ شرعاًدرست نہیں، جس سے احترازلازم ہے۔
کمافی الھدایہ : و إذاطلق الرجل إمرأتہ فلھا النفقۃ و السکنیٰ فی عدتھا رجعیاً کان أو بائناً (الی قولہ ) سمعت رسول ﷺ یقول للمطلقہ الثلٰث النفقۃ و السکنیٰ مادامت فی العدۃ الخ ( ج1 ص 446 باب النفقۃ ط رحمانیہ )
وفی الهداية:و إن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية، والأقيسة متعارضة ففيه تفويت الزوج الملك على نفسه باختياره وفيه عود المعقود عليه إليها سالما فكان المرجع فيه النص وشرط أن يكون قبل الخلوة لأنها كالدخول عندنا على ما نبينه إن شاء الله تعالى اھ (باب المھر،ج:1،ص:199، ناشر:بیروت)