السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
مفتی صاحب، ایک نہایت ضروری شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
مسئلہ یہ ہے:
میرے شوہر کا بواسیر کا آپریشن ہوا تھا۔ آپریشن کے ساتویں دن گھر میں کسی بات پر جھگڑا ہوا، اس وقت میرے شوہر، میں اور میرا بھائی گھر میں موجود تھے۔ اس دوران میرے شوہر نے میرے بھائی سے مخاطب ہو کر ایک ہی سانس میں طلاق کے الفاظ کہے، اور میں بھی موجود تھی۔
بعد میں میرے شوہر کہتے ہیں کہ اس وقت ان کی جسمانی حالت انتہائی تکلیف دہ تھی؛ آپریشن کے زخم میں شدید درد تھا، خون بہہ رہا تھا (Bleeding) اور ایک ٹانکا بھی کھل گیا تھا۔ وہ اس وقت شدید درد کش ادویات (Painkillers) کے اثر میں بھی تھے۔
اس شدید درد، بیماری اور غصے کی ملی جلی حالت میں انہوں نے اپنے سالے سے لڑتے ہوئے طلاق کے الفاظ کہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کی کیفیت ایسی تھی کہ اب انہیں یہ یاد نہیں کہ انہوں نے یہ الفاظ ایک بار کہے، دو بار یا تین بار۔ انہوں نے اس بات پر قرآنِ پاک پر قسم بھی اٹھائی ہے کہ انہیں تعداد یاد نہیں اور نہ ہی اس وقت وہ اپنے ہوش و حواس میں تھے۔
وضاحت:
1۔ پہلے سے طلاق کا کوئی ارادہ یا نیت نہیں تھی۔
2۔ آپریشن کی شدید جسمانی تکلیف اور ادویات کی وجہ سے وہ اپنے قابو میں نہیں تھے۔
3۔ میاں بیوی دونوں ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس شدید بیماری، مدہوشی اور بے خبری کی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہوئی ہے؟
نیز شوہر نے طلاق دیتے وقت یہ الفاظ کہے تھے: "میں نے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی" (سالے کو مخاطب کر کے)۔
ہمیں زبانی فتویٰ ملا ہے کہ اس حالت میں طلاق واقع نہیں ہوئی، لیکن مزید اطمینان کے لیے آپ سے رہنمائی درکار ہے، خصوصاً اس پہلو سے کہ بیماری، شدید تکلیف اور ادویات کے اثر کی وجہ سے ایسی حالت میں انسان کی عقل متاثر ہو جاتی ہے اور کیا اسلام میں اس صورت میں گنجائش ہے کہ طلاق واقع نہ ہو۔Saly ko kha k mainy talaq di ,talaq di ,talaq di ik hi saans main
سوال میں ذکرکردہ کیفیت کے دوران سائلہ کے شوہر کو اپنے کہئے ہو ئے الفاظ کا پورا علم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ انھوں نے غصہ کی وجہ سے مذکور الفاظ کہے ہیں لہذا اس کیفیت میں بھی ان الفاظ کے استعمال سے اس کی بیوی( سائلہ) پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام عدت گذرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کر نے میں بھی آزاد ہو گی ۔
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدتِ طلاق گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسر ے مسلمان شخص سے اپنا عقد ِ نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سےایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کےتحقق لئے ضروری ہے )کے فورا ً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے ، بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِ نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضامند ہو تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقدِ نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی نکاح کے بعد طلاق دے تاکہ زوج اول کیلئے عورت دوبارہ حلال ہوجائے مکروہ تحریمی ہے اور احادیث مبارکہ میں ایسا عمل کرنے والوں کو ملعون قرار دیا گیا ہے ، البتہ بغیر شرط کے بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال للہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وفی الھندیۃ:إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاصحیحا ، الخ(ج: 1 ص : 473 فصل فيما تحل به المطلقة ناشر ؛ المطبعۃ الکبری لأمیریہ)
وفی الہندیۃ : متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق ،الخ(ج:1 ص : 356 الفصل فی الطلاق الصریح ناشر : سعید)
وفیہا ایضا رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان الخ(ج:1 ص : 356 ، 355،الفصل فی الطلاق الصریح ناشر : سعید)