کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص مسمی۔۔۔۔ نے روبرو گواہان،باہوش وحواس خمسہ ،درستگی صحت ،بلاجبر و باؤ، اپنی منکوحہ مسماۃ۔۔۔۔۔ کو تحریری طور پر اور زبانی طور پر تین مرتبہ ان الفاظ کے ساتھ طلاق دی ہے ،جس کی تفصیل منسلکہ کاغذات میں بھی مذکور ہے ،(میں ۔۔۔۔اپنی منکوحہ ۔۔۔ کو طلاق دیتا ہوں )کیا اس صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہے یا نہیں ؟ شریعت مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
منسلکہ طلاق نامہ اگر بمطابق اصل ہو تو اس صورت میں مسمی ۔۔۔ کی بیوی مسماۃ۔۔۔ پر شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کما فی رد المحتار : لو قال للمدخولة أنت طالق أنت طالق أنت طالق إلا واحدة تقع الثلاث، وكذا لو قال أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة إلا واحدة لأنه ذكر كلمات متفرقة فيعتبر كل كلام في حق صحة الاستثناء كأنه ليس معه غيره،ج: 3،ص: 375۔)
و فی الموسوعۃ الفقھیہ : لو قال لمدخول بها ومن في حكمها: أنت طالق أنت طالق أنت طالق، في مجلس واحد، ونوى تكرار الوقوع، فإنه يقع ثلاثا عند الأئمة الأربعة، ولاتحل له حتى تنكح زوجا غيره،1،ص: 211۔)
و فی الفقہ الاسلامی : واتفقوا أيضاً على أنه إن قال الزوج لامرأته: «أنت طالق، أنت طالق، أنت طالق» وتخلل فصل بينها، وقعت الثلاث، سواء أقصد التأكيد أم لا؛ لأنه خلاف الظاهر. وإن قال: قصدت التأكيد صدق ديانة، لا قضاء.ج: 9،ص: 6912۔)