لسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا نکاح سن 2018 میں ہوا تھا۔ تقریباً دو سال بعد بعض گھریلو مسائل کی وجہ سے علیحدگی ہو گئی۔ اس دوران میں نے ایک تحریری طلاق نامہ (Written Affidavit) تیار کیا تھا جو عدالت سے حاصل کیا گیا تھا۔ اُس طلاق نامے میں میرا اور میری اہلیہ دونوں کا نام درج تھا، اور اس میں تین مرتبہ طلاق کے الفاظ تحریر تھے، جس پر میں نے دستخط بھی کیے تھے۔
تاہم وہ طلاق نامہ براہِ راست متعلقہ فریق تک نہیں پہنچا، بلکہ درمیان میں کسی شخص کے پاس تھا۔ اب معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ وہ اصل دستاویز نہ میرے پاس موجود ہے اور نہ ہی اُس شخص کے پاس، بلکہ گم ہو چکی ہے۔ اس واقعہ کو تقریباً چھ سال گزر چکے ہیں۔
اب موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ دونوں طرف سے دوبارہ رجوع (واپسی) کا ارادہ ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ:
1. کیا مذکورہ صورت میں طلاق شرعاً واقع ہو چکی ہے، خاص طور پر جب تین مرتبہ طلاق کے الفاظ تحریر کیے گئے تھے؟
2. اگر طلاق نامہ وصول نہ ہوا ہو اور اصل دستاویز بھی گم ہو چکی ہو تو کیا حکم ہے؟
3. کیا اس صورت میں رجوع کی کوئی گنجائش باقی ہے؟
4. اگر شرعاً دوبارہ نکاح کی اجازت ہو تو اس کا درست طریقہ کیا ہوگا؟
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ شوہر جب طلاق نامہ پر دستخط کر لیتا ہے تو اسی وقت اس کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج طلاقیں واقع ہو جاتی ہیں ،شرعا طلاق واقع ہونے کے لیے طلاق نامہ بیوی کے پاس پہنچنا لازم اور ضروری نہیں،لہذا جب سائل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ پر دستخط کر دیے تو اگرچہ وہ طلاق نامہ بیوی کو نہ پہنچا ہو تب بھی سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کمافی ردالمختار: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتاب (كتاب الطلاق، ج:3، ص:246، ط:سعيد)
وفیہ ایضا: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو(كتاب الطلاق ج: 3، ص: 246، ط:سعید)
و في الفتاوى الهندية: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب وغير موسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا وهو على وجهين مستبينة وغير مستبينة فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكن فهمه وقراءته ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق يقع وإلا فلا وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعدفأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة(کتاب الطلاق،ج:1،ص:378،ط:ماجدیۃ)
وفیھا ایضا: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز،أما الإنزال فليس بشرط للإحلال۔اھ(کتاب الطلاق،ج:1،ص:473،ط:ماجدیۃ)۔