میں نے تین طلاق کے کاغذات پر دستخط کیے تھے، ہر کاغذ پر ایک بار طلاق درج تھی۔ اپنی بیگم کو بھیجنے کے لیے وکیل کو ایک طلاق بھیجنے کے لیے کہا، اس نے بھیج دی۔ دوسری بھیجنے کو کہا، اس نے نہیں بھیجی، اور اس مرحلے میں 82 دن بعد میں نے یونین کونسل جا کر پہلی طلاق بھی واپس لے لی۔ اور اس کے بعد صلح ہو گئی۔ اب تین دن سے ہم اکٹھے رہ رہے ہیں۔ رہنمائی کیجیے گا کیا طلاق ہو گئی یا نہیں۔
صورت مسؤلہ میں سائل نےاگر چہ بیوی کو فقط ایک طلاق کا نوٹس بھیجا ہو، لیکن چونکہ اس نے تین طلاقوں پر مشتمل کاغذات پر دستخظ کردیئے ہیں اس لئے اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، تیں طلاقوں کے بعد ایک ساتھ رہنے پر تو بہ اور استغفار کرے،اب رجو ع نہیں ہو سکتا ،اور حلا لہ شرعیہ کے بغیر ان دونوں کا با ہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے جبکہ عورت ایام عدت گذرنے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی التنزیل العزیز:الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ( سورۃ البقرہ الآیہ 229 )
قال للہ تعالی: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ ( سورۃ البقرہ الآیہ: 230 )
وفی الھندیۃ:إن کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ وثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحاصحیحا ، الخ(ج: 1 ص : 473 فصل فيما تحل به المطلقة ناشر ؛ المطبعۃ الکبری لأمیریہ)
وفیہاایضا ولو طلقہا ثلاثا ثم تزوجہا قبل ان تنکح زوجا غیرہ فجاءت منہ بولد ولایعلمان بفساد النکاح فا لنسب ثابت وان کان یعلمان بفساد النکاح یثبت النسب ایضا عند ابی حنیفۃ تعا لی کذا فی التاترخانیۃ ناقلا عن التجنیس الناصر( ج:1 ص :540 باب في ثبوت النسب ناشر ماجیدیہ)
وفي حاشیۃ ابن العابدین :كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة. اھ(ج:3 ص:246 ،باب فی الطلاق بالکتابۃ ناشر سعید )
وفي شرح کنز الدقائق :لوكتب الطلاق أو العتاق مستبينا لكن لا على وجه الرسالة والخطاب ينوي فيه الكلام فإن كان كقوله أما بعد يا فلانة فأنت طالق أو أنت حرة أو إذا وصل إليك/ كتابي فأنت كذا فإنه يقع منجزا عقب الكتابة إذا لم يقله ولا يصدق في عدم النية والله الموفق.اھ(ج: 2 مطلب في الطلاق قبل الدخول ص:361 ناشر دار کتب العلمیہ)