السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں اپنے معاملے میں طلاقِ تفویض کی شرعی حیثیت کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔
تفصیل یہ ہے:
میرے نکاح نامہ میں مجھے طلاقِ تفویض کا اختیار دیا گیا تھا۔
میں نے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے وکیل کے ذریعے ایک تحریری طلاق نامہ پر دستخط کیے۔
اس طلاق نامہ میں ایک ہی دستاویز کے اندر لفظ "طلاق" تین مرتبہ درج تھا۔
یہ طلاق نامہ میرے وکیل کی طرف سے کورئیر کے ذریعے میرے شوہر کو بھجوایا گیا۔
مجھے یہ گمان تھا کہ اس کے بعد آربیٹریشن کونسل (Arbitration Council) کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
تاہم تین ماہ بعد معلوم ہوا کہ بعض قانونی اور انتظامی نقائص کی وجہ سے آربیٹریشن کونسل نے باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیے اور نہ ہی مصالحت کی کارروائی شروع ہوئی۔
میرے شوہر کو صرف میرے وکیل کی جانب سے بھیجا گیا ابتدائی قانونی نوٹس موصول ہوا تھا، آربیٹریشن کونسل کی طرف سے کوئی سرکاری نوٹس موصول نہیں ہوا۔
اب میرے شوہر کا موقف یہ ہے کہ چونکہ طلاق نامہ میں لفظ "طلاق" تین مرتبہ لکھا گیا تھا، اس لیے شرعی اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور نکاح ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔
میرے سوالات درج ذیل ہیں:
طلاقِ تفویض کی صورت میں اگر ایک ہی تحریری دستاویز میں لفظ "طلاق" تین مرتبہ لکھا جائے تو کیا یہ تین الگ الگ طلاقیں شمار ہوں گی یا ایک طلاق؟
اگر آربیٹریشن کونسل کی کارروائی اور مصالحت کا عمل صحیح طور پر شروع ہی نہ ہوا ہو تو کیا اس سے طلاق کی شرعی حیثیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
طلاقِ تفویض استعمال کرتے وقت نیت (Intention) کا شرعی حکم پر کیا اثر ہوتا ہے؟
کیا اس صورت میں شرعاً رجوع یا مصالحت کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
یہ طلاق شرعاً رجعی شمار ہوگی یا بینِ کبریٰ؟
براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً۔
فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق اگر نکاح کے وقت عورت کو طلاق کا حق مطلقاً دیدیا جائے (یعنی بلاکسی شرط کے، اگر اپنے اوپر طلاق واقع کرنا چاہے تو واقع کرسکتی ہے) تو اس سے عورت کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار مِل جاتا ہے اور یہ اختیار مجلس کے اختتام تک محدود ہوتا ہے اور مجلس کے ختم ہونے سے ختم ہوجاتا ہے ، تاہم متاخرین علماء کرام اور مفتیان عظام نے عرف کی وجہ سے اس اختیار کو مجلس کے بعد بھی باقی رکھا ہے ،اور جب تک عورت کا نکاح برقرار ہو اور وہ اس حق کو استعمال نہ کرےتو اسے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا یہ حق برقرار رہے گا، جب بھی چاہے اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے ۔
نیزاگر شوہر طلاق کا حق بیوی کو تفویض کرے اور طلاق کے ساتھ کسی خاص عدد کی نیت کرے اور نہ ہی کسی خاص عدد کی نیت کی ہو تو اس صورت میں بھی عورت کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار ہوتاہے ،اس سے زیادہ نہیں اگر عورت اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تین طلاق واقع کرے تب بھی ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگرواقعۃً سائلہ کے شوہر نےنکاح فارم پرتفویضِ طلاق کامطلقا اختیار دیا اوراس پردستخط نکاح منعقد ہونےکےبعدکئےہوں تو ایسی صورت میں سائلہ کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار شرعاً حاصل تھا اور اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے جب اپنے اوپر طلاق واقع کردی تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی جس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق حاصل تھا، اگر عدت کے دوراان رجوع نہیں کیا تو یہ طلاق بائن ہوگئی اور نکاح ختم ہو گیاہے ۔
الهداية في شرح بداية المبتدي-مكتبة البشري (3/ 186)
ومن قال لامرأته طلقي نفسك ولا نية له أو نوى واحدة فقالت طلقت نفسي فهي واحدة رجعية وإن طلقت نفسها ثلاثا وقد أراد الزوج ذلك وقعن عليها" وهذا لأن قوله طلقي معناه افعلي فعل التطليق وهو اسم جنس فيقع على الأدنى مع احتمال الكل كسائر أسماء الأجناس فلهذا تعمل فيه نية الثلاث وينصرف إلى واحدة عند عدمها.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 331)
فصل في المشيئة (قال لها طلقي نفسك ولم ينو أو نوى واحدة) أو ثنتين في الحرة (فطلقت وقعت رجعية، وإن طلقت ثلاثا ونواه وقعن) قيد بخطابها: لأنه ......(وتقيد بالمجلس) لأنه تمليك (إلا إذا زاد متى شئت) ونحوه مما يفيد عموم الوقت فتطلق مطلقا...رد المحتار...(قوله فطلقت) أي واحدة أو ثنتين أو ثلاثا، وكل مع عدم النية أصلا أو مع نية الواحدة أو الثنتين في الحرة فهم تسعة، والواقع فيها طلقة رجعية.......لكن قوله أو ثلاثا جار على قولهما بوقوع واحدة رجعية أما عند الإمام فإنها إذا طلقت ثلاثا ونوى واحدة أو لم ينو أصلا لا يقع شيء لأن موجب طلقي هو الفرد الحقيقي فيثبت وإن لم ينوه، والفرد الاعتباري أعني الثلاث محتملة لا يثبت إلا بنيته فإتيانها بالثلاث حينئذ اشتغال بغير ما فوض إليها فلا يقع شيء كما أفاده في الشرنبلالية.