طلاق

نکاح نامہ کی شق تفویض طلاق کا حق دینے میں صرف "ہاں"لکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
92096
| تاریخ :
2026-02-13
معاملات / احکام طلاق / طلاق

نکاح نامہ کی شق تفویض طلاق کا حق دینے میں صرف "ہاں"لکھنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں اپنے معاملے میں طلاقِ تفویض کی شرعی حیثیت کے بارے میں رہنمائی چاہتی ہوں۔

تفصیل یہ ہے:

میرے نکاح نامہ میں مجھے طلاقِ تفویض کا اختیار دیا گیا تھا۔
میں نے اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے اپنے وکیل کے ذریعے ایک تحریری طلاق نامہ پر دستخط کیے۔
اس طلاق نامہ میں ایک ہی دستاویز کے اندر لفظ "طلاق" تین مرتبہ درج تھا۔
یہ طلاق نامہ میرے وکیل کی طرف سے کورئیر کے ذریعے میرے شوہر کو بھجوایا گیا۔
مجھے یہ گمان تھا کہ اس کے بعد آربیٹریشن کونسل (Arbitration Council) کی کارروائی شروع ہو چکی ہے۔
تاہم تین ماہ بعد معلوم ہوا کہ بعض قانونی اور انتظامی نقائص کی وجہ سے آربیٹریشن کونسل نے باقاعدہ نوٹس جاری نہیں کیے اور نہ ہی مصالحت کی کارروائی شروع ہوئی۔
میرے شوہر کو صرف میرے وکیل کی جانب سے بھیجا گیا ابتدائی قانونی نوٹس موصول ہوا تھا، آربیٹریشن کونسل کی طرف سے کوئی سرکاری نوٹس موصول نہیں ہوا۔

اب میرے شوہر کا موقف یہ ہے کہ چونکہ طلاق نامہ میں لفظ "طلاق" تین مرتبہ لکھا گیا تھا، اس لیے شرعی اعتبار سے تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں اور نکاح ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے۔

میرے سوالات درج ذیل ہیں:

طلاقِ تفویض کی صورت میں اگر ایک ہی تحریری دستاویز میں لفظ "طلاق" تین مرتبہ لکھا جائے تو کیا یہ تین الگ الگ طلاقیں شمار ہوں گی یا ایک طلاق؟
اگر آربیٹریشن کونسل کی کارروائی اور مصالحت کا عمل صحیح طور پر شروع ہی نہ ہوا ہو تو کیا اس سے طلاق کی شرعی حیثیت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟
طلاقِ تفویض استعمال کرتے وقت نیت (Intention) کا شرعی حکم پر کیا اثر ہوتا ہے؟
کیا اس صورت میں شرعاً رجوع یا مصالحت کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
یہ طلاق شرعاً رجعی شمار ہوگی یا بینِ کبریٰ؟

براہِ کرم شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں اس مسئلے کی وضاحت فرما کر رہنمائی فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیراً۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فقہاء کرام کی تصریحات کے مطابق اگر نکاح کے وقت عورت کو طلاق کا حق مطلقاً دیدیا جائے (یعنی بلاکسی شرط کے، اگر اپنے اوپر طلاق واقع کرنا چاہے تو واقع کرسکتی ہے) تو اس سے عورت کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار مِل جاتا ہے اور یہ اختیار مجلس کے اختتام تک محدود ہوتا ہے اور مجلس کے ختم ہونے سے ختم ہوجاتا ہے ، تاہم متاخرین علماء کرام اور مفتیان عظام نے عرف کی وجہ سے اس اختیار کو مجلس کے بعد بھی باقی رکھا ہے ،اور جب تک عورت کا نکاح برقرار ہو اور وہ اس حق کو استعمال نہ کرےتو اسے اپنے اوپر طلاق واقع کرنے کا یہ حق برقرار رہے گا، جب بھی چاہے اپنے اوپر طلاق واقع کرسکتی ہے ۔
نیزاگر شوہر طلاق کا حق بیوی کو تفویض کرے اور طلاق کے ساتھ کسی خاص عدد کی نیت کرے اور نہ ہی کسی خاص عدد کی نیت کی ہو تو اس صورت میں بھی عورت کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار ہوتاہے ،اس سے زیادہ نہیں اگر عورت اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے تین طلاق واقع کرے تب بھی ایک ہی طلاق واقع ہوتی ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگرواقعۃً سائلہ کے شوہر نےنکاح فارم پرتفویضِ طلاق کامطلقا اختیار دیا اوراس پردستخط نکاح منعقد ہونےکےبعدکئےہوں تو ایسی صورت میں سائلہ کو اپنے اوپر ایک طلاق واقع کرنے کا اختیار شرعاً حاصل تھا اور اس اختیار کو استعمال کرتے ہوئے جب اپنے اوپر طلاق واقع کردی تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی جس کے بعد شوہر کو رجوع کا حق حاصل تھا، اگر عدت کے دوراان رجوع نہیں کیا تو یہ طلاق بائن ہوگئی اور نکاح ختم ہو گیاہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

الهداية في شرح بداية المبتدي-مكتبة البشري (3/ 186)
ومن قال لامرأته طلقي نفسك ولا نية له أو نوى واحدة فقالت طلقت نفسي فهي واحدة رجعية وإن طلقت نفسها ثلاثا وقد أراد الزوج ذلك وقعن عليها" وهذا لأن قوله طلقي معناه افعلي فعل التطليق وهو اسم جنس فيقع على الأدنى مع احتمال الكل كسائر أسماء الأجناس فلهذا تعمل فيه نية الثلاث وينصرف إلى واحدة عند عدمها.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 331)
فصل في المشيئة (قال لها طلقي نفسك ولم ينو أو نوى واحدة) أو ثنتين في الحرة (فطلقت وقعت رجعية، وإن طلقت ثلاثا ونواه وقعن) قيد بخطابها: لأنه ......(وتقيد بالمجلس) لأنه تمليك (إلا إذا زاد متى شئت) ونحوه مما يفيد عموم الوقت فتطلق مطلقا...رد المحتار...(قوله فطلقت) أي واحدة أو ثنتين أو ثلاثا، وكل مع عدم النية أصلا أو مع نية الواحدة أو الثنتين في الحرة فهم تسعة، والواقع فيها طلقة رجعية.......لكن قوله أو ثلاثا جار على قولهما بوقوع واحدة رجعية أما عند الإمام فإنها إذا طلقت ثلاثا ونوى واحدة أو لم ينو أصلا لا يقع شيء لأن موجب طلقي هو الفرد الحقيقي فيثبت وإن لم ينوه، والفرد الاعتباري أعني الثلاث محتملة لا يثبت إلا بنيته فإتيانها بالثلاث حينئذ اشتغال بغير ما فوض إليها فلا يقع شيء كما أفاده في الشرنبلالية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی محمد افنان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92096کی تصدیق کریں
0     33
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 3
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات