السلام علیکم مفتی صاحب ، میرے پانچ بیٹے ہیں جن میں سے تیسرے بیٹے محمد بلال بس حادثہ میں شہید ہوگئے اور اس کی بیوی بھی زخمی ہوچکی تھی ،پھر ان کو لانے ہم سکھر گئے جہاں حادثہ ہوا تھا ، اور اس کا تقریبا نو(9) مہینہ اپنے خرچ سے علاج کروایا ،ٹھیک ہونے کے بعد اپنے والد صا حب کے گھر چلی گئی ،وہاں جانے کے بعد اپنا مہر اور اپنے شوہر کا حصہ مانگ رہی ہے اب اس کا مہر تین تولہ نکاح میں متعین ہوا تھا جبکہ والد کے گھر جاتے وقت پونے دو تولہ اپنے ساتھ لے گئی تھی پھر بعد میں جرگہ ہوا اور سب کے سامنے اس کے والد نے بقیہ مہر معاف کرنے پر راضی ہوئے ،اس وقت سب ختم ہوا ، میرے اس بیٹے کی دو بیٹیاں ہیں جن کو ہم ماہانہ چھ(6) ہزار روپے خرچ کیلئے بھیجتے ہیں اور ان کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں ،اور آٹھ سال ہونے کے بعد واپس لائیں گے ،اب اس کا نکاح دوسری جگہ ہوچکا ہے اور اس کا والد بقیہ مہر اور ہماری جائیداد میں اپنی بیٹی کا حصہ کا مطالبہ کر رہا ہے ،اور یہ بھی کہ رہے ہیں کہ جب بچے 9 سال کے ہوجائے تب ہم سوچیں گے کہ بچے ہمیں دے یا اپنے پاس رکھے لیکن 9 سال تک خرچہ بھیجیں گے ،براہ کر شریعت کی روشنی میں فیصلہ جاری فرمائیں۔ مستفتی: خاندان کا کا
واضح ہو کہ جب نکاح کے وقت سائل کی اس بہو کا حق مہر تین تولہ سونا مقرر کیا گیا تھا ، اور اس میں سے پونے دو تولہ سونے کی ادائیگی کی جاچکی تھی ، تو بقیہ مہر کی ادائیگی سائل کے بیٹے پر لازم تھی، لیکن اس کے انتقال کر جانے کے بعد لڑکی کے والد نے اگر لڑکی کی اجازت و رضامندی سے بلا کسی جبر و اکراہ کے مذکور جرگہ کے سامنے حق مہر معاف کردیا ہو اور اس پر وہاں موجود لوگ گواہی بھی دیتے ہوں، تو اب مہر معاف کرنے کے بعد دوبارہ مہر کا مطالبہ کرنا درست نہیں، جبکہ جس بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوجائے تو والد کے مال میں سے چونکہ اس میت کا یا اس کے ورثاء کا شرعا کوئی حصہ نہیں بنتا، اس لیے والد کی جائیداد میں تو اس بیوہ کا کوئی حصہ نہیں، البتہ اگر بیٹے کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں اس کا اپنا ذاتی مال موجود ہو تو اس مال میں اس کی بیوہ کو اگر چہ اس نے کسی دوسری جگہ شادی کرلی ہو، تب بھی اس مال و جائیداد کا آٹھواں حصہ دینا لازم ہوگا، جبکہ مرحوم بیٹے کی بچیوں سے متعلق حکم یہ ہے کہ نو سال تک ان کی پرورش کی حقدار انکی والدہ ہے ، لیکن اگر والدہ نے بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے شادی کرلی ہے تو والدہ کے بعد نو سال کی عمر تک حق حظانت نانی کو حاصل ہے، جب بچیوں کی عمر نو سال ہوجائے تو اس کے بعد سائل انہیں اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ، پھر اس میں رکاوٹ بننا شرعا ً جائز نہ ہوگا۔
كما في الهداية: وإن حطت عنه من مهرها صح الحط" لأن المهر بقاء حقها والحط يلاقيه حالة البقاء، اه(باب المهر، ج: ١،ص: ٢٠٠،مط: دار احيات التراث العلمي)
وفي الدر المختارمع التنوير الابصار: (وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) قبل أو لا، ويرتد بالرد كما في البحر اه
وفي رد المحتار تحت (قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها. ففي هبة الخلاصة خوفها بضرب حتى وهبت مهرها لم يصح لو قادرا على الضرب. اه (باب المهر،مطلب في حط المهر،ج:٣،ص: ١١٣،مط: سعيد )
و فی الدر المختار: (ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى، اہ(باب الحظانۃ،ج: ٣، ص: ٥٦٣،مط: سعيد)
وفي الدر المختارمع التنوير الأبصار: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب.الى قوله (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى.اه(باب الحضانة، ج: ٣ ص: ٥٦٦، مط: سعيد)