السلام علیکم! مفتی صاحب! میں آپ سے ایک مسئلہ معلوم کرنا چاہتی ہوں، ہماری شادی کو پانچ سال ہوگئے، جس میں میرے شوہر تین سال سے کراچی نفسیاتی ہسپتال میں زیر علاج ہے، ان کے ساتھ نفسیاتی مسائل ہیں، اس بیماری کی وجہ سے ان کو بہت غصہ آتا ہے ،اور ان کو پوری رات نیند بھی نہیں آتی، ہر وقت پریشان رہتے ہیں ، روز نیند کی گولیاں کھا کر سوتے ہیں اور علاج سے بھی کوئی خاص فرق نہیں پڑھ رہا ، اس بیماری کے چکر میں انہوں نے مجھے دو طلاق کال پر دی تھیں، جس کا ان کو یاد نہیں، اس بیماری کی وجہ سے ان کو اتنا غصہ آتا ہے کہ: ان کو اپنا بھی ہوش نہیں ہوتا وہ کیا کہہ رہے ہیں، کچھ سمجھ نہیں آتا ، ابھی جمعرات والے دن اس سے لڑائی میں، انہوں نے مجھے تیسری طلاق دے دی ، بعد میں جب انہیں بتایا تم نے طلاق دے دی تو بہت پریشان ہو گئے ان کے ساتھ نفسیاتی مسائل ہیں ، جب بھی غصہ آتا ہے تو ان کا پورا سر درد کرتا ہے، دو دو ، تین تین دن تک ان کے سر میں درد رہتا ہے ، ہمارے دو بچے ہیں، ہم بہت پریشان ہیں ، ابھی تک انکا علاج چل رہا ہے تین سال سے، ان کی ساری رپورٹس ہمارے پاس موجود ہیں ۔
(نوٹ) دارالافتاء میں شوہر مسمی زید سے دونوں مواقع کے متعلق پوچھا گیا ، تو یہی بتایا کہ لڑائی میں غصہ آجاتا ہے ، اور پہلی مرتبہ لڑائی میں دو طلاق دی تھیں کہ:" میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "اور ابھی پندرہ دن پہلے لڑائی میں اور غصہ میں ، میں نہیں بولنا چاہ رہا تھا ، لیکن میرے منہ سے ایک مرتبہ یہ الفاظ نکلے "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " اب معلوم کرنا ہے کہ ہمارے لئے شرعاً کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ غصہ کی وجہ سے مغلوب ہوکر طلاق دی جائے ،تب بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا مسمی "زید" نے جب بیوی کو "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کے الفاظ کے ذریعہ دو طلاقیں دی تھیں ، تو اس سے بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوچکی تھیں ، جس کے بعد شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی تھا ، بعد ازا ں حالیہ واقعہ میں جب شوہر مسمی " زید " نے غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے ذریعہ تیسری طلاق بھی دیدی ، تو اس سے سائلہ پر تیسری طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقوں سے حرمت ِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہوسکتا ، جبکہ ایام عدت گزرنے کے بعد سائلہ دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )
وفي الهندية: واذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية او تطليقتين فله ان يراجعها في عدتها رضيت بذلك او لم ترض كذا في الهداية اھ (الباب السادس في الرجعة ج 1 ص 470 مط ماجدية)
وفي الدر المختار: وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالاجماع ومنع غيره فيها لاشتباه النسب لا ينكح مطلقة من نكاح صحيح نافذ بها اي بالثلاث لو حرة وثنتين لو امة حتى يطأها غيره ولو الغير مراهقا يجامع مثله اھ (باب الرجعة ج 3 ص 410 مط سعيد)
وفي البدائع: ولو قال لها انت طالق طالق او قال انت طالق انت طالق او قال قد طلقتك قد طلقتك او قال انت طالق قد طلقتك يقع ثنتان اذا كانت المرأة مدخولا بها لانه ذكر جملتين كل واحدة منهما ايقاع تام لكونه مبتدأ وخبرا والمحل قابل للوقوع اھ (كتاب الطلاق فصل في النية في احد نوعي الطلاق ج 3 ص 102 مط سعيد)