میں نے اپنی بیوی کو اسکے بھائی کے گھر جانے سے منع کیا تھا لیکن وہ بضد تھی،جب اپنے والد کے گھر گئی تو میں نے اُنکو call کی بات چیت کی اُس نے بھائی کے گھر جانے کے لئے کہا تو میں نے منع کیا تھا لیکن بعد میں جب وہ والد کے گھر سے پنڈی گئی پھر راستے میں کہیں سے مجھے میسج بیجھا کہ میں لاہور کے لئے راستے میں ہوں تو میں نے کہا کہ آپ آزاد ہو کہیں بھی جا سکتی ہو میں نے پھر کوئی بات نہیں کی کچھ دن بعد میں نے پوچھا کہ فنکشن ختم ہوا کہ نہیں تو کہنے لگی کہ میں تو عدت میں ہو میں نے کہا کیوں تو کہنے لگی کہ آپ نے مجھے آزاد جو کیا ہے تو میں نے کہا کہ میرا تو آزادی سے مراد طلاق تو نہیں تھا وہ تو اس وجہ سے کہیں غصے سے کہا کہ جب جا رہی ہیں تو جاؤ میں کیا کہوں ۔ میرا نہ تو اِرادہ تھا نہ کوئی خیال اس بارے میں ۔ اب میں call کرتا ہوں وہ کہتی ہے کہ کہیں نکاح ٹوٹا نہ ہو ۔ تو میری رہنمائی فرایئں ۔ کیوں کہ میں نے ایک دن دو بعد یہ بھی بولا تھا کہ اگر نہ جاؤ تو میں آپکو کشمیر لے جاؤ اور کپڑے چپل پرس بھی دلاؤں ۔ آخری بات کہی دل میں میرا طلاق کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
واضح ہو کہ لفظ آزاد جیسا کہ نکاح سے آزادی کے لئے استعمال ہوتا ہے ایسا ہی اگر عرف میں رائج دیگر معنوں(قید سے آزادی،پابندیوں سےآزادی، جانے کی آزادی وغیرہ) میں استعمال کیا جائے اور طلاق کے بجائے کوئی دوسرے معنی مراد لینے پر قرینہ بھی موجود ہو تو اس سے شرعاً کوئی طلاق واقع نہ ہوگی، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کا اپنی بیوی کو سوال میں مذکور جملہ''آپ آزد ہو کہیں بھی جاسکتی ہو''کہنے سے اگر واقعۃ سائل کی مراد کسی جگہ نہ جانے کی پابندی ختم کرنا ہو تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع نہ ہوگی۔(کذا فی امداد الاحکام،ج:2،ص:471)
کما فی رد المحتار: بخلاف فارسية قوله سرحتك وهو " رهاء كردم " لأنه صار صريحا في العرف على ما صرح به نجم الزاهدي الخوارزمي في شرح القدوري اهـ وقد صرح البزازي أولا بأن: حلال الله علي حرام أو الفارسية لا يحتاج إلى نية، حيث قال: ولو قال حلال " أيزدبروي " أو حلال الله عليه حرام لا حاجة إلى النية، وهو الصحيح المفتى به للعرف وأنه يقع به البائن لأنه المتعارف ثم فرق بينه وبين سرحتك فإن سرحتك كناية لكنه في عرف الفرس غلب استعماله في الصريح فإذا قال " رهاكردم " أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا،(باب الکنایات،ج:3،ص:299،مط:ایچ ایم سعید)
کذا فی امداد الاحکام،ج:2،ص:471)