کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ مسمی فیصل ولد گلزار صاحب نے اپنے منکوحہ مسماۃ صبا بنت عبد الجبار کو لڑائی جھگڑے کے دوران فون پر تین مرتبہ یہ الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں " کہے لیکن بیوی کو کہنا ہے کے میں نے یہ الفاظ نہیں سنے ہیں، اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئی اور اب ہمارے لیئے کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ شوہر کا بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے الفاظ طلاق کہہ دینے کے بعد وقوع طلاق کے لیئے بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا مجلس طلاق میں موجود ہونا ضروری نہیں ، بلکہ اس کے بغیر بھی شرعا طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں تین بار کہہ دیئے اگرچہ بیوی نے مذکور الفاظ نہ سنے ہو ں، تب بھی ان الفاظ کےکہنے کے ساتھ ہی اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہوسکتا ، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في بدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر ؛ لقوله عز وجل : فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل و أما حكم البائن ، ج: 3 ، ص 187 ، ط : سعيد )
و فی الدر المختار: ( واذا اضاف الطلاق الیھا ) کانت طالق ( او ) الی ( ما یعبر بہ عنھا ) الی قولہ ( وقع ) لعدم تجزیہ
وفي رد المحتار تحت ( قوله كأنت طالق ) وكذا لو أتى بالضمير الغائب أو اسم الاشارة العائد إليها أو باسمها العلمي ونحو ذلك، واشار الی ان المراد بہ ما یعبر بہ عن جملتھا وضعا، والمراد بقولہ او الی ما یعبر بہ عنھا یعبر بہ عن الجملۃ بطریق التجوز کرقبتک (مطلب في قوله علي الطلاق من ذراعي ، ج: 3 ، ص 256 ، ط : سعيد ) –
و فی الھندیہ: و إن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة و ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً و يدخل بها، ثم يطلقها أو يموت عنها، كذا في الهداية، (کتاب الطلاق، الباب السادس، ج: 1، ص: 473، ط: رشیدیہ )
و فی رد المحتار تحت قولہ ( ورکنہ لفظ مخصوص ) ھو ما جعل دلالۃ علی معنی الطلاق من صریح او کنایۃ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: سعید )
وفی التاتارخانیہ: و فی فتاوی اھل سمرقند : من ترا طلاق دادم! فان نوی الایقاع وقع، وان نوی التفویض لایقع، وفی الذخیرۃ: وان لم یکن لہ نیۃ فیقع ایضا ( کتاب الطلاق، فصل فیما یرجع الی صریح الطلاق، ج: 4، ص: 405، ط: رشیدیہ )