امامت و جماعت

بلا ضرورت لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنا

فتوی نمبر :
92184
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بلا ضرورت لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے مدرسہ کی جامع مسجد میں شعبان اور رمضان کی تعطیلات میں عام دنوں کی بنسبت نمازِ پنجگانہ میں نمازیوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے، بسا اوقات صرف دو یا تین صفیں ہی بنتی ہیں، اور اندرونی مائیک (Internal Sound System) سے بآسانی نماز کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔لیکن بعض دفعہ بے توجہی میں بیرونی بڑے لاؤڈ اسپیکر بھی استعمال کیے جاتے ہیں، جس کی آواز مسجد سے باہر قریبی گھروں تک بہت بلند آواز میں پہنچتی ہے۔
رمضان المبارک میں قریبی گھروں میں بعض لوگ اپنی الگ تراویح یا تلاوت کا اہتمام کرتے ہیں، تو نماز وتراویح کے دوران بیرونی اسپیکر کی آواز ٹکرانا تراویح میں خلل کا باعث بنتا ہے۔ اس حوالے سے شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ جہری نماز میں امام کےلئے ضرورت سے زیادہ آواز بلند کرنے کو فقہاء کرام رحمھم اللہ نے مکروہ اور ناپسندیدہ قرار دیا ہے،خصوصاً جب آواز کی بلندی لوگوں کےلئے تکلیف اور ایذاء کا باعث ہو تو اس کی کراہت مزید بڑھ جاتی ہے،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مسجد انتظامیہ کو چاہئے کہ نماز و تراویح کے دوران اندرونی مائیک کا استعمال کریں اور ممکنہ حد تک لاؤڈ اسپیکر کی آواز مقتدیوں کی ضرورت کی حد تک رکھیں۔ بلا ضرورت بیرونی اسپیکر استعمال کرنا یا آواز کو اس حد تک بلند کرنا کہ وہ دوسرے لوگوں کے لیے باعثِ تکلیف ہو، شرعاً مکروہ اور ناپسندیدہ عمل ہے، جس سے احتراز کرنا چاہئے۔

مأخَذُ الفَتوی

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار - ط الحلبي» :
«بأنه صرح في السراج بأن الإمام إذا ‌جهر ‌فوق الحاجة فقد أساء اهـ والإساءة دون الكراهة ولا توجب الإفساد» (باب الإمامة:ص:589،ج:1)
«الجامع الصغير - ومعه النافع الكبير» :
«وَلَا بَأْس أَن يُصَلِّي إِلَى ظهر رجل قَاعد يتحدث وَأَن يُصَلِّي وَبَين يَدَيْهِ مصحف مُعَلّق ۔۔۔
قَوْله وَلَا بَأْس إِلَخ وَمن النَّاس من كره ذَلِك لما روى أَن رَسُول الله صل الله عَلَيْهِ وَسلم نهى ‌أَن ‌يُصَلِّي ‌الرجل وَعِنْدهم قوم يتحدثون أَو نائمون وتأويله عندنَا أَنهم إِذا رفعوا صوتهم على وَجه يخَاف مِنْهُ وُقُوع الْغَلَط»(‌‌باب في الإمام أين يستحب له أن يقوم وما يكره له أن يصلي إليه،ص:86)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عرفان اللہ حبیب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92184کی تصدیق کریں
0     209
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات