کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے آپ کو ڈاکٹر بھی کہتا ہے، ایڈوکیٹ بھی کہتا ہے۔ قاضی بھی کہتا ہے ،حکیم بھی کہتا ہے اور تعویز دھاگے بھی کرتا ہے اور ٹی وی اور وی سی آر بھی دیکھتا ہے ، جھوٹ بھی بولتا ہے ،جھوٹی سیاست بھی کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص کو امام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں جس شخص کا ذکر ہے اگر واقعۃً وہ امور قبیحہ اور ناجائز باتوں کا مرتکب ہو تو ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا درست نہیں ، کیونکہ یہ شخص فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ اس لیے اہل محلہ کو چاہیے کہ کسی نیک صالح اور متبع شریعت شخص کو اپنا امام منتخب کریں اور جب تک کسی ایسے امام کا انتخاب نہ ہو سکے تو اکیلے پڑھنے کی بجائے اسی شخص کے پیچھےجماعت کی فضیلت حاصل کرنے کی غرض سے نماز پڑھنے کی شرعا گنجائش ہے۔
ففي الدر المختار: (ويكره إمامة عبد وأعرابي) (وفاسق وأعمى إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى (ومبتدع) أي صاحب بدعة اھ (1/ 559)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ويكره الاقتداء بهم تنزيها؛ فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد اھ (1/ 559) والله اعلم .