امامت و جماعت

ٹی وی دیکھنے والے شخص کو امام بنانے کا حکم

فتوی نمبر :
92189
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

ٹی وی دیکھنے والے شخص کو امام بنانے کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنے آپ کو ڈاکٹر بھی کہتا ہے، ایڈوکیٹ بھی کہتا ہے۔ قاضی بھی کہتا ہے ،حکیم بھی کہتا ہے اور تعویز دھاگے بھی کرتا ہے اور ٹی وی اور وی سی آر بھی دیکھتا ہے ، جھوٹ بھی بولتا ہے ،جھوٹی سیاست بھی کرتا ہے۔ کیا ایسے شخص کو امام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں جس شخص کا ذکر ہے اگر واقعۃً وہ امور قبیحہ اور ناجائز باتوں کا مرتکب ہو تو ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا درست نہیں ، کیونکہ یہ شخص فاسق ہے اور فاسق کی اقتداء میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے۔ اس لیے اہل محلہ کو چاہیے کہ کسی نیک صالح اور متبع شریعت شخص کو اپنا امام منتخب کریں اور جب تک کسی ایسے امام کا انتخاب نہ ہو سکے تو اکیلے پڑھنے کی بجائے اسی شخص کے پیچھےجماعت کی فضیلت حاصل کرنے کی غرض سے نماز پڑھنے کی شرعا گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي الدر المختار: (ويكره إمامة عبد وأعرابي) (وفاسق وأعمى إلا أن يكون) أي غير الفاسق (أعلم القوم) فهو أولى (ومبتدع) أي صاحب بدعة اھ (1/ 559)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): ويكره الاقتداء بهم تنزيها؛ فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد اھ (1/ 559) والله اعلم .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی عبد اللہ شوکت صاحب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92189کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات