میں نے اپنے بھائی کو اعتماد میں لے کر گھر سے چھپ کر نکاح کیا تھا۔ گھر والے راضی نہیں ہوتے تھے اس لیے لڑکا مجھ سے 6،7 سال بڑا ہے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی پہلے بیوی اور ایک چھوٹا بچہ ہے، محبت کی شادی کی ہم نے۔ وہ مجھ سے بالکل ٹھیک رہتا ہے، ہم خوش ہیں، پر گھر والوں کو جب سے پتا چلا ہے وہ خلع کا کہتے ہیں۔ میں اس صورت حال میں کیا کر سکتی ہوں، کس کی مانوں؟
واضح ہو كہ کسی جوان لڑکے ، لڑکی کا اولیاء کی رضامندی کے بغیر چھپ کر نکاح کرنا انتہائی معیوب، نا مناسب اور ناپسندىده عمل ہے، جسے شریف گھرانوں میں انتہائی قبیح فعل گردانا جاتا ہے، اىسے نكاح کا نتیجہ عموما بڑوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق یا خلع کی صورت میں نکلتا ہے، لہذا سائلہ کا اس طرح سے چھپ کر مذکور شخص سے شادی کرنا درست طرز عمل نہ تھا، تاہم یہ نکاح اگر کفو میں ہوا ہو تو یہ چونکہ درست منعقد ہو چکا ہے، اب اگر اس لڑکے میں دىن اور اخلاق کے اعتبار سے کوئی خرابی نہ ہو ،تو سائلہ کے بڑوں کو بھی اس کی پسند کا خیال رکھتے ہوئے اس نکاح کو ختم کرنے پر اصرار نہیں کرنا چاہیے،بلکہ اب درگزر کرتے ہوئے ان کے گھر کو آباد رکھنے کی کوشش كرنى چاہیے، جبکہ سائلہ کو بھی چاہیے كہ وہ حکمت سے اپنے گھر کے بڑوں کو اعتماد میں لے کر انہیں راضی کرنے کی کوشش کریں، تاکہ ان کے اعتماد سے یہ ازدواجی رشتہ مستقل بنیادوں پر قائم رہ سکے، ایسی صورت میں سائلہ پر ان کے حكم کی تعمیل بھی لازم نہ ہو گی۔
كما في سنن الترمذي: عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: كانت تحتي امرأة أحبها، وكان أبي يكرهها، فأمرني أن أطلقها، فأبيت، فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال: "يا عبد الله بن عمر طلق امرأتك". [أبواب الطلاق واللعان عن رسول الله ﷺ، باب ما جاء في الرجل يسأله أبوه أن يطلق امرأته، رقم الحديث (1226) ج:3 ص:49 ط: دار الرسالة العالمية)]
وفي مرقاة المفاتيح تحت هذا الحديث: أمر ندب أو وجوب إن كان هناك باعث آخر. [كتاب الآداب، باب البر والصلة، ج:7 ص: 3097 ط: دار الفكر بيروت)]
وفي إحياء علوم الدين: وليعلم أنه مباح ولكنه أبغض المباحات إلى الله تعالى وإنما يكون مباحا إذا لم يكن فيه إيذاء بالباطل ومهما طلقها فقد آذاها ولا يباح إيذاء الغير إلا بجناية من جانبها أو بضرورة من جانبه (إلى قوله) قال ابن عمر رضي الله عنهما كان تحتي امرأة أحبها (إلى قوله) فهذا يدل على أن حق الوالد مقدم ولكن والد يكرهها لا لغرض فاسد مثل عمر ومهما آذت زوجها وبذت على أهله فهي جانية وكذلك مهما كانت سيئة الخلق أو فاسدة الدين. [كتاب آداب النكاح، الثاني عشر في الطلاق، ج:2 ص:55 ط: دار المعرفة بيروت)]
وفي الهداية: "الكفاءة في النكاح معتبرة" قال عليه الصلاة والسلام "ألا لا يزوج النساء إلا الأولياء ولا يزوجن إلا من الأكفاء" ولأن انتظام المصالح بين المتكافئين عادة لأن الشريفة تأبى أن تكون مستفرشة للخسيس فلا بد من اعتبارها بخلاف جانبها لأن الزوج مستفرش فلا تغيظه دناءة الفراش "وإذا زوجت المرأة نفسها من غير كفء فللأولياء أن يفرقوا بينهما" دفعا لضرر العار عن أنفسهم اهـ [كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء، فصل في الكفاءة، ج:1 ص:195 ط: دار إحياء التراث العربي)]
وفي الشامية: يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة اهـ (كتاب النكاح، باب الولي، ج:3 ص:55 ط: سعيد)