تفویض طلاق

بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے کیا اسے رجوع کا حق بھی حاصل ہوگا؟

فتوی نمبر :
92194
| تاریخ :
2026-02-15
معاملات / احکام طلاق / تفویض طلاق

بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے کیا اسے رجوع کا حق بھی حاصل ہوگا؟

میں نے اپنی زوجہ کو ایک طلاق رجعی تفویض کی کیو نکہ وہ اپنے میکے زبردستی نا حق گئی اور چار ماہ سے واپس نہ آئی اور نہ مجھ سے بات کی اور نہ مجھ سے ملی، انہوں نے حق استعمال کیا اور خود کو ایک رجعی طلاق دی ، کیا اب وہ خود سے رجوع کر سکتی ہیں یا میں رجوع بھی کرسکتا ہوں کیا بیگم مجھے بتائے بغیر رجوع کرے (یعنی خود ہی زباں سے کہے اور پیغام مجھے نہ بھیجے ) تو کیا رجوع ہو جائے گا ۔ اگر میں ان سے رجوع کرنا چاہوں تو کیسے کروں ؟ میرا فون نمبر بلاک ہے، گھر جانے پر دھمکی ہے ، ضد بیگم کی الگ گھر لیکر رہنے کی ہے حالانکہ اوپر کا گھر انکے لیے ہی بنایا ہے ، انکی سہولتوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر (پورا پورشن ہے ،لیکن ایک کمرہ بمع لیٹرین اور غسل خانہ بیگم کے پاس ہے) میرا کوئی بھائی نہیں ،والدین عمر رسیدہ اور بیمار ہیں ،دو عدد غیر شادی شدہ چھوٹی ہمشیرہ ہیں ،ہم سب اعلی تعلیم یافتہ اور ذمہ دار ہیں ،بیگم بھی عالمہ اور انجینئر ہے ،لیکن اپنے گھر والوں کے آ گے میرا پردہ نہیں کرتی ۔سب اس کے لیے ہی بنایا تھا ، میری ساس بیٹی کی غیر اخلاقی پشت پناہی کرتیں ہیں ، کیا میں الگ گھر دینے کا پابند ہوں حالانکہ سب کو پتہ ہے گھر میں نے انکے لیے رشتہ ہونے کے بعد بنایا ۔کوئی جہیز نہ لیا اور نہ زوجہ کو شادی سے پہلے دیکھا ، صرف دین اور ساس سرکی شرافت کو دیکھ کر شادی کی،شادی کو اب کل ایک سال ہوا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے اگر بیوی کو نکاح کے بعد ایک طلاق رجعی کا حق عمومی الفاظ کے ذریعے تفوض کیا تھا (مثلا کہ جب بیوی چاہے اپنے اوپر طلاق واقع کر سکتی ہے )تو ایسی صورت میں بیوی کو کسی بھی وقت اپنے اوپر ایک طلاق رجعی واقع کرنے کا اختیار حاصل تھا، لیکن وقوع طلاق کے بعد رجوع کا حق بیوی کو نہیں بلکہ سائل کو ہی حاصل ہے ،چنانچہ اگر سائل طلاق رجعی کی عدت گزرنے سے قبل احتیاطا دو لوگوں کو گواہ بنا کر رجوع کر لے (مثلا یوں کہہ دےکہ میں اپنی بیوی سے رجوع کرتا ہوں یا اسے اپنے نکاح میں واپس لیتا ہوں)،تو یہ الفاظ اگرچہ سائل براہ راست یا بذریعہ فون بیوی کو نہ کہے تب بھی شرعا اس سے رجوع درست ہو جائے گا اور میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہوگا۔
جبکہ بیوی کوایک ایسا مستقل کمرہ فراہم کرنا جس کا بیت الخلا، باورچی خانہ وغیرہ الگ ہو، جس میں وہ اپنی ضروری اشیاء کوتالالگاکررکھ سکے، جس میں کسی دوسرے کا اشتراک اور عمل دخل نہ ہو شوہر کی ذمہ داری ہے،چنانچہ اگر سائل نے بیوی کو اس نوعیت کا مکان حوالے کر دیا ہو (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے)تو اس کے بعد سائل کی بیوی کا مستقل الگ گھر کا مطالبہ کرنا اور اس کی وجہ سے سائل کی اجازت کے بغیر والدین کے گھر بیٹھ جانا شرعا جائز نہیں ،جس کی وجہ سے وہ گنہگار ہو رہی ہے ،اس پر لازم ہے کہ اپنے مذکور طرز عمل سے باز آ کر گھر بسانے کی کوشش کر کے مؤاخذہ دنیاوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی بدائع الصنائع : (ومنها) أن يكون أحد نوعي ركن الرجعة وهو القول منه لا منها حتى لو قالت للزوج راجعتك لم يصح لقوله سبحانه وتعالى (وبعولتهن أحق بردهن) أي: أحق برجعتهن منهن. ولو كانت لها ولاية الرجعة لم يكن الزوج أحق بالرجعة منها، فظاهر النص يقتضي أن لا يكون لها ولاية الرجعة أصلا إلا أن جواز الرجعة بالفعل منها عرفناه بدليل آخر، وهو ما بينا وأما رضا المرأة فليس بشرط لجواز الرجعة۔الخ(کتاب الطلاق،الرجعة،ج:3،ص:186،ط:سعید)
وفیہ ایضا: ولو أراد الزوج أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأم الزوج وأخته وبنته من غيرها وأقاربه فأبت ذلك؛ عليه أن يسكنها في منزل مفرد؛ لأنهن ربما يؤذينها ويضررن بها في المساكنة وإباؤها دليل الأذى والضرر ولأنه يحتاج إلى أن يجامعها ويعاشرها في أي وقت يتفق ولا يمكنه ذلك إذا كان معهما ثالث حتى لو كان في الدار بيوت ففرغ لها بيتا وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا: إنها ليس لها أن تطالبه ببيت آخر(کتاب النفقۃ،ج:4،ص:23،ط:سعید)
و فی الھندیۃ: (ألفاظ الرجعة صريح و كناية) (فالصريح): راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها و حضورها أيضا و من الصريح ارتجعتك و رجعتك و رددتك و أمسكتك و مسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية اھ(الباب السادس فی الرجعۃ الخ،ج:1،ص:468،ط:ماجدیۃ)
وفي الدر المختار: (وكذا تجب لها السكنى في بيت خال عن أهله) سوى طفله الذي لا يفهم الجماع وأمته وأم ولده (وأهلها) ولو ولدها من غيره (بقدر حالهما) كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها، ونقل المصنف عن الملتقط كفايته مع الأحماء لا مع الضرائر فلكل من زوجتيه مطالبته ببيت من دار على حدة اھ(باب النفقۃ،ج:3،ص:599،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92194کی تصدیق کریں
0     164
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کیا عورت مرد کو طلاق دے سکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • بیوی کو وکالت کی جازت ملنے پر وہ شوہر سے نکاح ختم کراسکتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویضِ طلاق کے مؤثر اور قابلِ عمل ہونے کی شرائط

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • عورت کو اگر طلاق کا حق تفویض کیا جائے تو وہ اپنے اوپر کیسے طلاق واقع کرے گی ؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویضِ طلاق کی شرعی حیثیت

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
  • ایک طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   انگلش   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کے متعلق حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کی ایک صورت کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • آپ کو دیا اور فارغ کردیا کہنے سے طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا حق تفویض کرنے سے کیا اسے رجوع کا حق بھی حاصل ہوگا؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 0
  • تفویض طلاق کب معتبر ہوتی ہے؟

    یونیکوڈ   تفویض طلاق 1
Related Topics متعلقه موضوعات