سوال1:ہرعمل کا دارومدار نیت پر ہے،اور طلاق کیلئے نیت دل کا ارادہ ہے یا زبان سے کہنا کافی ہے؟۔سوال2:ایک جگہ یا ایک دفعہ تین طلاق کہنا ایک کہلائے گا یا تین؟۔سوال 3:میراا ور بیٹے کا موبائل کے اوپر جھگڑا ہوا،موبائل میرا تھا ،اور بیٹے نے لے لیا،میں نے بیٹے کو ڈرانے کے واسطے کہا ،اگر موبائل باہرلے گیا (ہاتھ سے اشارہ بھی کیا،الفاظ زبان سے کہے تھے، کراچی سے باہر، گھر سے باہر ، یا کمرے سے باہر یا دروازے سے باہر،نہیں کہا)تو بیوی کو تین طلاق اور بیٹا موبائل لے گیا،تو کیا طلاق واقع ہوگئی ہے،بیٹا اب بھی گھر میں ہے، اور موبائل کراچی میں ہے۔سوال 4:اور اگر طلاق واقع ہوجاتی ہے تو اس صورت میں نان و نفقہ یا کوئی اور کفارہ وغیرہ یا رجوع کی کوئی مدت شریعت کی رو سے، وضاحت کریں،اور بات چیت کرسکتے ہیں کیونکہ چار بچے ہیں اس سے۔
واضح ہو کہ وقوعِ طلاق کیلئے الفاظِ طلاق کا زبان سے ادا کرنا ضروری ہے، دل ہی دل میں طلاق کی نیت کرلینے سے شرعاً طلاق واقع نہ ہوگی ۔نیز ایک مجلس میں تین طلاقیں خواہ ایک جملہ سے دی ہو ں، جیسے تجھے تین طلاق ہے یا علیحدہ علیحدہ جملوں سے دی ہو ں ،جیسے تمہیں طلاق دیتا ہوں ،تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں ،بہر صورت اس سے قرآن و سنت کی روشنی میں تین طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں،اس پر حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین عظام رحمہم اللہ کا اتفاق ہےاور امت کے چاروں ائمہ کرام (امام اعظم ،امام مالک ،امام شافعی،امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ) کا بھی یہی مسلک ہے، چنانچہ سائل کے بیٹے کے ساتھ جھگڑے کے دوران مذکور جملہ "اگر موبائل ہاہر لے کر گیاتو بیوی پر تین طلاق "سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں معلق ہوگئی تھیں،چنانچہ اس کے بعد بیٹے کا موبائل گھر سے باہر لے جانے پر اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، اور عدت کا نان نفقہ شوہر پر لازم ہے۔
جہاں تک بچوں کی پرورش کا تعلق ہے، تو لڑکوں کی عمر سات (7)سال اور لڑکیوں کی عمر (9) سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے ورنہ ماں کا حق ساقط ہوکر ان بچوں کی نانی اور اس کے بعد دادی ،خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حاصل ہوگا، جبکہ دورانِ پرورش بچوں کے اخراجات والد پر لازم ہونگے، جہاں تک مطلقہ عورت سے بات چیت کرنے کا تعلق ہے ،تو بلاضرورت بات چیت شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر بچوں کے حوالہ سے بات چیت کرنا ناگزیر ہو تو شرعی پردہ کا مکمل اہتمام کرتے ہوئے بے تکلفی اور تنہائی اختیار کئے بغیر بقدرِ ضرورت بات چیت کی گنجائش ہے۔
کما فی صحیح البخاری: باب من أجاز طلاق الثلاث لقول الله تعالى {الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان}(ج:3،ص:2390،رقم:5259 ، م : البشرٰی)
وفی الدرالمختار: وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق(کتاب الطلاق ،ج:3،ص:227،ط : سعید)
وفیہ ایضاً: (ولا بد من سترة بينهما في البائن) لئلا يختلي بالأجنبية، ومفاده أن الحائل يمنع الخلوة المحرمة(فصل فی الحداد،ج:3،ص:537،ط:سعید)
وفی الشامیۃ: قلت: لكن مقتضى كلام الفتح المار أن المراد به التعليق على أمر اختياري للمعلق ليفيد قوة الامتناع عن الأمر المحلوف عليه أو قوة الحمل عليه، نحو: إن بشرتني بكذا فأنت حر فغيره من التعليق لا يسمى يمينا، مثل إن طلعت الشمس أو إن حضت فأنت كذا؛ لكن في تلخيص الجامع وشرحه للفارسي: لو حلف لا يحلف بيمين حنث بتعليق الجزاء بما يصلح شرطا، سواء كان الشرط فعل نفسه أم فعل غيره أم مجيء الوقت، كأنت طالق إن دخلت أو إن قدم زيد أو إذا جاء غد وكذا إذا جاء رأس الشهر، أو إذا أهل الهلال والمرأة من ذوات الحيض دون الأشهر لوجود ركن اليمين وهو تعليق الجزاء، ووجود اليمين شرط الحنث فيحنث، إلا أن يعلق بعمل من أعمال القلب كإن شئت أو أردت أو أحببت أو هويت أو رضيت، أو، بمجيء الشهر كإذا جاء رأس الشهر والمرأة من ذوات الأشهر فلا يحنث(باب التعلیق،ج:3،ص:341،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان(الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ،ج:1،ص:557،م:ماجدیۃ)
وفیھاایضاً: إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا(الباب الرابع فی الطلاق بالشرط الخ،ج:1،ص:420،م: ماجدیۃ)
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (فصل وأما حکم البائن،ج:3،ص: 187،ط:سعید)
وفی البحرالرائق: ولذا قال في البدائع: ركن الطلاق اللفظ الذي جعل دلالة على معنى الطلاق لغة وهو التخلية، والإرسال ورفع القيد في الصريح وقطع الوصلة ونحوه في الكنايات أو شرعا وهو إزالة حل المحلية في النوعين أو ما يقوم مقام اللفظ اهـ (قوله: وهو إزالة حل المحلية في النوعين) أي في الصريح، والكناية وأراد بحل المحلية كون المرأة محلا للحل أي حل الوطء ودواعيه وقوله: أو ما يقوم مقام اللفظ معطوف على اللفظ في قوله ركن الطلاق اللفظ وفسر في البدائع الذي يقوم مقام اللفظ بالكتابة، والإشارة أي الكتابة المستبينة، والإشارة بالأصابع المقرونة بلفظ الطلاق(کتاب الطلاق ، ج : 3 ، ص:235،م: رشیدیۃ)