کیا فرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی صدام حسین نے گھر میں لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی مسمی نامرہ کے مطالبۂ طلاق پر چار سے پانچ مرتبہ یہ الفاظ بولے "طلاق، طلاق، طلاق" اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنى طلاقیں ہو گئیں اور اگر ہم گھر آباد کرنا چاہیں تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟
صورت مسئولہ مىں جب سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران اپنی بیوی کے مطالبۂ طلاق پر چار سے پانچ مرتبہ مذكور الفاظ "طلاق، طلاق، طلاق" كہہ دئیے، تو پہلی دفعہ کے تین الفاظ سے اس کی بیوی پرتینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئیں ہے، باقی الفاظ بیوی کے محل ِطلاق نہ ہونے کی وجہ سے لغوہوگئے هيں،اب میاں بیوی کے درمیان رجوع نہىں ہو سكتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھى نہىں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فورا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ عورت ایام عدت گزرجانے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپنا عقد نکاح کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری (جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لیے ضروری ہے) کے فورا بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے، بہر صورت اسکی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو، تو نئے مہر کے ساتھ گواہوں كى موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے، اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما قال اللہ تعالی: فإن طلقھا فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ (الآية : 230 ، سورۃ البقرۃ )
و في صحيح البخاري : عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبتَّ طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك الخ ( باب شهادة المختبي، ج 2، ص 1243، رقم : 2639، ط : البشرى)
وفی الهندية : متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق ( کتاب الطلاق، الباب الثانی، الفصل الاول فی الطلاق الصریح، ج :1 ، ص : 356 ، ط : مكتبة ماجدية )
و فی البدائع الصنائع : وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية ..الی قولہ سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة. ( کتاب الطلاق ، فصل فی حکم الطلاق البائن ، ج: 3، ص: 187، ط: إيج إيم سعيد)
وفی ردالمحتار تحت قوله: ( لتركه الإضافة ) ولا یلزم کون الإضافة صريحة في كلامه ، لما فی البحر لو قال طالق فقیل له من عنیت ؟ فقال امرأتی طُلقت امرأته.اهـ ( باب الصریح ، ج : 3 ، ص : 248 ، ط : إيج إيم سعید )
وفي الدر المختار: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ (إلى قوله) كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول (إلى قوله) (حتى يطأها غيره إلخ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 409-410، ط: إيج إيم سعيد)
وفيه أيضا: (وتعتدان) أي معتدة طلاق و موت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو ينهدم المنزل ، أو تخاف) انهدامه ، أو (تلف مالها ، أو لا تجد كراء البيت) و نحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه الخ (باب العدۃ فصل فی الحداد، ج: 3،ص: 536، ط: إيج إيم سعید)
وفيه أيضا: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) (إلى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي. (باب الرجعة، ج: 3، ص: 414، ط: إيج إيم سعيد)