السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ !
میں فرحان ظہیر ولد ظہیر محمد نے اپنی بیوی طیبہ نور ولد عبدالقیوم کو مذکور الفاظ "میں فرحان ظہیر ولد ظہیر محمد اپنی بیوی طیبہ نور کو طلاق دیتا ہوں " طلاق نامہ پر فقط دستخط کیے ہیں، جبکہ زبان سے کوئی لفظ نہیں دہرایا اور اس سے میری ایک بچی ہے جو کہ آٹھ مہینے کی ہے تو کیا اس سے طلاق واقع ہو جاتی ہے ؟اب میں گھر بسانا چاہتا ہوں، جبکہ میں مذکور فعل پر بہت پشیمان ہوں، لہذا شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
نوٹ: جبکہ یہ معاملہ مجھ سے لڑائی جھگڑے میں ہوا تھا ، اور اس کے ساتھ طلاق نامہ بھی منسلک ہے ۔
واضح ہو کہ وقوع طلاق کے لیے الفاظ طلاق زبان سے کہنا شرعاً ضروری نہیں، بلکہ طلاق نامہ پر دستخط کر دینے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، لہذا سوال کے ساتھ منسلک طلاق نامہ پر بلا جبر و اکراہ دستخط کر دینے سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے۔
اور حلالۂ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،چنانچہ اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالۂ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے، مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگا،تاکہ زوجِ اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرے، یہ مکروہِ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
کما في صحيح البخاري : عن عائشة قالت : جاءت امرأة رفاعة القرظي إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : إني كنت عند رفاعة فطلقني فبت طلاقي فتزوجت بعده عبد الرحمن بن الزبير وما معه إلا مثل هدبة الثوب فقال : " أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة ؟ " قالت : نعم قال : " لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك۔" ويذوق عسيلتك اھ (ج ٢ ص ١٢٤٣ ، باب شهادۃ المختبی، ط: البشرى)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله طلقت بوصول الكتابة ) أي اليها ( إلى قوله) ولو استكتب من آخر كتاباً بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه و عنونه وبعث به إليها فاناها وقع الخ ( ج ٣ ص 246 ط: سعید)۔
وفي الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ (ج۲ ص ۹۲ ط: انعامية)