السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک شخص نے شدید غصے کی حالت میں اپنی بیوی کو مخاطب کر کے ہاتھ میں تین کنکریاں پکڑائیں اور زبان سے صرف ایک بار یہ الفاظ کہے: "تجھے طلاق ہے"۔ اس وقت شوہر کے دل میں تین طلاقوں کی نیت تھی، لیکن زبان سے "تین" کا لفظ ادا نہیں کیا اور نہ ہی جملہ تین بار دہرایا۔نیز:عورت کاملہ ہے۔
شرعِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ:
اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
کیا دل کی نیت اور ہاتھ میں پکڑی کنکریوں کی وجہ سے تین طلاقیں شمار ہوں گی؟
رجوع کا کیا طریقہ ہوگا؟
سوال میں درج کردہ تفصیل کے مطابق شوہر نے بیوی کو مذکور الفاظ "تجھے طلاق ہے"کہتے وقت اگر صراحتۃ یاالفاظ میں اشارۃ تین طلاق کا ذکر نہ کیا ہو تو فقط بیوی کو تین کنکریاں پکڑوانے سے بیوی پر تین طلاق واقع نہ ہونگی بلکہ مذکور جملے سے فقط ایک طلاق رجعی واقع ہوگئی ہے ،جس کے بعد عدت کے دوران شوہر کو رجوع کرنے کا حق حاصل ہے چنانچہ اگر وہ عدت کے دوران رجوع کرلیتا ہے تو ایسی صورت میں دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہوگا ،تاہم اس رجوع کے بعد آئندہ کے لئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا۔
كما في رد المحتار:(قَوْلُهُ وَلِمَ لَمْ يَقُلْ هَكَذَا) أي بِأن قال: أنت طَالق وأشار بثلاث أصابع ونوى الثلاث ولم يذْكر بلسانه فإِنها تطلق واحدة خانية (قوله لفقد التشبيه) أي بالعدد قال القهسْتاني لأنه كما لا يتحقق الطلاق بدون اللفظ لا يتحقّق عدده بدونه.( ج:٣،ص :٢٧٥، مط : سعيد)
و فيه ايضا:فلا يقع بإلقاء ثلاثة أحْجار إليها أو بِأمرِها بِحلق شعرها وإنْ اعْتقد الْإِلْقاء والْحلق طلاقا كما قدمناه لأن ركْن الطلاق اللفظ أو ما يقوم مقامه مما ذكر كما مر.( ج:٣ . ص :٢٣١،مط:سعيد)