السلام علیکم، میں آپ سے پوچھنا چاہ رہا تھا، میں نے اپنی بیگم کو دو محفل میں ایک دفعہ اور دوسری محفل مىں بھی ایک دفعہ طلاق دی، اس کے بعد بھی ہم ساتھ رہتے رہے، پھر اچانک رات کو 3 بجے سوئے ہوئے اٹھا کے دماغ خراب کیا، میں اٹھا، آدھی نیند میں تھا، آدھا جاگ رہا تھا ، میرے منہ سے کب اور کیسے 3 الفاظ ایک ساتھ نکل گئے ہیں، یہ سب نیند کی غنودگی میں ہوا، تو آپ ذرا یہ بتا دیں کہ اس میں کوئی گنجائش ہے یا طلاق ہو گئی ، آپ کی بڑی مہربانی ہوگی، اب آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا، شکریہ
واضح ہوکہ جب تک کوئی شخص مکمل بے ہوش یا نیندکے عالم میں اس کیفیت کونہ پہنچ جائے کہ اسے کچھ شعور ہی نہ ہو، اس وقت تک محض غنودگی یا نیم بیداری کی حالت میں کہے گئے الفاظ شرعاً معتبر ہی شمار ہوتے ہیں۔چنانچہ صورت مسئولہ مىں سائل كے نیند کی غنودگی میں اپنی بیوی کوکہے گئے الفاظِ طلاق شرعاًمعتبرمانے جائیں گے اورچونکہ سائل اس سے پہلے بھی دوالگ الگ محفلوں میں دو طلاقیں دے چکاہے، لہذامذکورواقعہ کےساتھ ملکر سائل كى بىوى پر تىنوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحد گی اختیار کریں اور میاں بیوی والا تعلق ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبكہ عورت عدت مکمل کرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگى۔
كما في الدر المختار: (ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع (إلى قوله) (أو مخطئا) بأن أراد التكلم بغير الطلاق فجرى على لسانه الطلاق أو تلفظ به غير عالم بمعناه أو غافلا أو ساهيا أو بألفاظ مصحفة يقع قضاء فقط.اهـ
وفي رد المحتار: قوله أو غافلا أو ساهيا) في المصباح: الغفلة غيبة الشيء عن بال الإنسان وعدم تذكره له. وفيه أيضا سها عن الشيء يسهو غفل قلبه عنه حتى زال عنه فلم يتذكره. (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 235-241، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: (لا) ينكح (مطلقة) من نكاح صحيح نافذ كما سنحققه (بها) أي بالثلاث (لو حرة وثنتين لو أمة) ولو قبل الدخول، (إلى قوله) (حتى يطأها غيره ولو) الغير (مراهقا) يجامع مثله (إلى قوله) (بنكاح) (إلى قوله) (وتمضي عدته) أي الثاني.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 409-412، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) (إلى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي.اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 415، ط: إيج إيم سعيد)
وفي الدر المختار أيضا: وأهله زوج عاقل بالغ مستيقظ إلخ.
وفي رد المحتار: وبالمستيقظ عن النائم. وأفاد أنه لا يشترط كونه مسلما صحيحا طائعا عامدا.إلخ. (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 230، ط: إيج إيم سعيد)