محترم مفتی صاحب!میرا سوال طلاق کے بارے میں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ:
کچھ دن پہلے رات کے وقت میری اپنی والدہ کے ساتھ گھر میں بحث ہو گئی۔ بحث کا موضوع میرے سسرال کے حوالے سے تھا۔ اس دوران غصے اور جذبات میں میں نے اپنی والدہ سے کہا:“ابھی شادی ہوئی نہیں پہلے ہی ڈرامے لگے ہوئے ہیں بس ٹھیک ہے، میں طلاق دیتا ہوں، رشتہ ختم کرتا ہوں تاکہ روز روز گھر میں ڈرامے نہ ہوں۔”یہاں میری کوئی نیت نہیں تھی طلاق کی صرف دھمکانا تھا۔ پھر میں نے یہ شکایت اپنی بہن سے کی مسیج پہ کہ آپ لوگ جوبات ہو مجھ سے پوچھا کرو اندازہ نا لگایا کرو بس ٹھیک ہے
میں Misbah کو فارغ کر دیتا ہوں، شادی نہ ہو تو سب سکون میں رہیں گے روز روز کا ڈرامہ ختم ہو۔”یہ پیغام بھی بیوی کو نہیں بھیجا گیا، صرف بہن کو شکایت کے طور پر لکھا گیا تھا۔اور میرا صرف نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں ہوئی۔میری نیت اس وقت غصے اور دباؤ کی حالت میں بات کہنے کی تھی، بیوی کو باقاعدہ طلاق دینے کا کوئی عملی یا سنجیدہ ارادہ نہیں تھا، اور نہ ہی میں نے طلاق کے الفاظ بیوی سے مخاطب ہو کر کہے۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
1.کیا ان الفاظ سے شرعاً طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
2.کیا میرا نکاح بدستور برقرار ہے یا نہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو طلاق کے واقع ہو نے کے لیے بیوی کا نام لینا شرعاً ضروری نہیں ،بلکہ اگر بیوی کی عدم موجودگی میں اس کو مخاطب کر تے ہوئے اور اس کی طرف نسبت کرتے ہوئے طلاق کے الفاظ کہے جائیں تو اس سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جا تی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے اگر رخصتی اور خلوتِ صحیحہ سے قبل اپنی بیوی کے متعلق مذکور الفاظ "میں طلاق دیتا ہوں" کہ دیئے ہوں تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں میاں بیوی کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ جبکہ اس کے بعد کہے گئے الفاظ محل نہ ہو نے کی وجہ سے لغو ہو چکے ہیں ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہو سکتا، البتہ اگر دونوں میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لیے نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا۔ تاہم اس نکاح کے بعد سائل کو آئندہ کے لیے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، لہٰذا آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔
و فی الهندية: : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة(ج:1 الفصل الرابع فی الطلاق قبل الدخول ص: 373 ناشر : المطبعۃ الکبری الامیریۃ )
وفي حاشية ابن العابدين : لو قال امرأته طالق ولم يسم وله امرأة معروفة طلقت استحسانا، وإن قال لي امرأة أخرى وإياها عنيت لا يقبل قوله: إلا أن يقيم البينة هذا ما ظهر لي فتأمل وراجع،اھ(ج:3 ص 272 باب الفاظ الطلاق ناشر : سعید)
وفي در المختار : طلقي نفسك فقالت أنا طالق أو أنا أطلق نفسي لم يقع لانه وعد.جوهرة.(باب تفویض الطلاق ص : 612 ناشر : بیروت )