بخدمت مفتی صاحب!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گزارش ہے کہ ایک اہم شرعی مسئلے میں آپ کی رہنمائی اور فتویٰ درکار ہے۔ مسئلہ درج ذیل ہے: جبار کرامت ولد کرامت حسین عرصہ دراز سے شدید غصے کے عارضے میں مبتلا ہے اور اس کی یہ کیفیت خاندان کے تمام افراد و علاقہ میں معروف اور مسلم ہے۔ جب جبار کرامت کو غصہ آتا ہے تو اس پر 'اغلاق' (عقل کا بند ہو جانا) اور 'بلیک آؤٹ' کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں وہ مکمل طور پر آپے سے باہر ہو جاتا ہے، اسے نہ اپنی جگہ کا ہوش رہتا ہے اور نہ ہی یہ ادراک رہتا ہے کہ اس کی زبان سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں۔
کچھ عرصہ قبل، بیرونِ ملک مقیم ہونے کی وجہ سے، ایک فون کال کے دوران اسی شدید اشتعال اور (Mental Blackout) کی حالت میں، جبار کرامت نے اپنی بیوی رومیصہ جبار کو طلاق کے الفاظ ایک ہی نشست میں آٹھ بار کہے۔ جب جبار کرامت اس کیفیت سے باہر آیا تو اسے اپنی کہی ہوئی باتوں کی شدت کا صحیح اندازہ نہیں تھا اور وہ خود کو اس وقت اپنے حواس میں نہیں پا رہا تھا۔ واضح رہے کہ جبار کرامت کا غصے میں بے قابو ہونا اور حواس کھو دینا اس کے گھر والوں اور خاندان میں سب کو معلوم ہے۔
فریقین کے درمیان ایک چار ماہ کی معصوم شیر خوار بچی ہے، جس کا مستقبل اس رشتے سے وابستہ ہے۔
لڑکے کے والدین اور لڑکی کے والدین، دونوں خاندان اس معصوم بچی کی خاطر صلح اور گھر بسانے کے حق میں ہیں۔ قرآن و سنت اور فقہِ اسلامی کی روشنی میں ارشاد فرمائیں:
کیا ایسی حالت (شدید غصہ، اغلاق اور بلیک آؤٹ) میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ کیا حدیثِ مبارکہ "لا طلاق فی اغلاق" کی روشنی میں اس رشتے کو برقرار رکھنے اور صلح کی کوئی شرعی گنجائش موجود ہے؟ بیان فرما کر اجر پائیں۔
واضح ہو کہ غصہ کی شدت سےمغلوب ہوکر طلاق دینے کی صورت میں بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے، اگرچہ یہ مسئلہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ جب غصہ میں اتنی شدت آ جائے کہ عقل وقتی طور پر زائل ہو جائے تو ایسی حالت میں زبان سے اگر طلاق کے الفاظ نکل جائیں تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی، لیکن اس بات کا فیصلہ کرنے کے لیے کہ آیا واقعۃً مذکور شخص کی بھی عقل زائل ہونے کی کیفیت ہو گئی تھی یا نہیں؟ اور اس پر بھی یہ حکم لاگو ہوگا یا نہیں؟ اس کے لیے مذکور شخص پر لازم ہے کہ کسی مستند اور ماہر مفتی کے پاس اپنی مکمل میڈیکل اورعلاج معالجہ پرمبنی دستاویزات کے ساتھ حاضر ہو تاکہ مفتی صاحب ان سے بالمشافہ بات کرکے اور مختلف سوالات کرکے فیصلہ کر سکے، محض غصے کی شدت میں آ کر نتائج کی طرف توجہ نہ جانے کی بنا پر کوئی ناپسندیدہ کام (مثلاً قتل و طلاق اور توڑ پھوڑ وغیرہ) کر لینے کو عقل کا زائل ہونا نہیں کہتے بلکہ اسکو شدتِ غضبان اور غفلت کہتے ہیں، اس لیے اپنی آخرت کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔
کما فی الدر المختار: لا يقع طلاق المولى على امرأة عبده)الی قولہ (والمغمى عليه) هو لغة المغشي (والمدهش) فتح. وفي القاموس: دهش الرجل تحير ودهش بالبناء للمفعول فهو مدهوش وأدهشه الله
وفی رد المحتار: وقال في الخيرية: غلط من فسره هنا بالتحير، إذ لا يلزم من التحير وهو التردد في الأمر ذهاب العقل. وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.( مطلب في طلاق المدهوش، ج: ٣، ص: ٢٤٤، مط: سيعد)
وفي الهندية: ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا.(كتاب الطلاق،باب فيمن يقع طلاقه وفيمن لايقع طلاقه، ج: ١، ص: ٣٥٣، مط: ماجدية)