کیا فرماتے ہیں ،علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں ،کہ میں مسمی ۔۔۔نے اپنی منکوحہ مسماۃ ۔۔۔ کو تحریری اور زبانی تین طلاقیں دیدی ہے ،لیکن وہ لوگ اس کو نہیں مانتے ،معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں کتنی طلاقیں واقع ہوئیں ؟اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟زبانی الفاظ یہ بولے تھے ،میں نے۔۔۔ کو طلاق دی ،یہ جملہ تین مرتبہ بولا تھا ۔
صورت مسؤلہ میں سائل "مسمی۔۔۔" نے جب مذکور الفاظ "میں نے ۔۔۔کو طلاق دی "کے ذریعے تین طلاقیں دیدیں ،جس کی تصدیق کے لیے سائل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بھی بنوا کر اس پر دستخط کردیئے تو اس سے سائل کی بیوی پر شرعاً تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،جبکہ عورت عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما فی الدر: (فروع) كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين،کتاب الطلاق،(باب مطلب الطلاق یقع بعدد قرن بہ لا بہ،ج: 3،ص: 293،مط: دار الفکر بیروت۔)
فی رد المحتار: تحت: (قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق ثم قيل له ما قلت؟ فقال: قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب، كذا في كافي الحاكم (قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء، وكذا إذا طلق أشباه: أي بأن لم ينو استئنافا ولا تأكيدا لأن الأصل عدم التأكيد اھ، (کتاب الطلاق،باب مطلب الطلاق یقع بعدد قرن بہ لا بہ،ج: 3،ص: 293،مط: دار الفکر بیروت۔)
و فی الھندیہ: رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء اھ،(فصل فيمن يقع طلاقه وفيمن لا يقع طلاقه،ج: 1،ص: 355،مط: دارالفکر بیروت ۔)
فی البدائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة اھ،؛کتاب الطلاق،فصل فی شرائط رجوع المبتوتہ لزوجھا،(ج: 3،ص: 187،مط: دارالکتب العلمیہ۔)