السلام علیکم! میرے شوہر نے دوبارطلاق دیدی تھی ،جسےپوراکہاتھاکہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں"دوبارکہا تھا۔ اس کے علاوہ ہربار لڑائی کے دوران کہتے ہیں "تم میری طرف سے آزاد ہو"۔ وہ جسمانی طور پر ٹھیک نہیں ہیں اور میرے ازدواجی حقوق بھی ادا نہیں کر سکتے۔ مزید یہ کہ وہ میرا خرچہ بھی نہیں دیتے۔ وہ مجھے، میرے گھر والوں کو اورسب رشتہ داروں کو گالیاں دیتے ہیں۔ ہمارا ایک پانچ سال کا بچہ ہے، اب وہ بھی گالیاں دینےلگا ہے۔ وہ اس کا خرچہ بھی پورا نہیں اٹھاتے، صرف اسکول کی فیس دیتے ہیں۔ مجھے نوکری بھی کرنےنہیں دیتے۔ سسرال والوں کی ہربات پر گھر میں لڑائی کرتے ہیں۔ہماری شادی کو 9 سال ہو چکے ہیں، لیکن ازدواجی حقوق نہ ہونے کے برابر ہے۔ وہ مجھے دھمکیاں دیتے ہیں کہ تیزاب پھینک دونگا ،یا مار کر سردخانہ چھوڑآؤنگا۔ انہی وجوہات کی بنا پر میں اپنی والدہ کے گھر آ گئی ہوں۔لیکن لوگ کہتے ہیں کہ میں واپس چلی جاؤں، کیونکہ مرد ایسے ہی ہوتے ہیں، جبکہ میں واپس نہیں جانا چاہتی۔انہوں نے تیسری بار یہ بھی کہا تھا کہ "اگر تم اپنی امی کے گھر گئی تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے"، اور میں اپنی امی کی طرف آ گئی تھی۔
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، اس لئے سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سوال کرنے والے پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعدواضح ہوکہ صورت مسئولہ میں اگر سائلہ کے شوہر نےواقعۃً صریح الفاظ کے ساتھ دومرتبہ یہ کہا ہوکہ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" تو اس سےسائلہ پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی تھی، چنانچہ اس کے بعد اگر سائلہ کے شوہر نےعدت کے اندر رجوع کرلیاہو تو ان دونوں کا نکاح برقرار رہا، تاہم شوہر کے پاس آئندہ کے لیے صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا۔چنانچہ اس کے بعد سائلہ کے شوہر نے جب یہ کہا کہ "اگر تم اپنی امّی کے گھر گئی تو میری طرف سے تمہیں طلاق ہے"اس جملہ سے ایک طلاق معلق ہوگئی تھی،اس کے بعد جب سائلہ اپنی والدہ کے گھر چلی گئی،تو اس سے سائلہ پر مزید ایک طلاق کے وقوع کے ساتھ مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا،لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے،جبکہ عورت ایامِ عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہو گی۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (الی قولہ): (ويقع بها واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينوشيئا)، الخ (باب الصريح ، ج: 3، ص: 250۔247، مط: سعید کراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.( الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول، ج: 1، ص: 154، مط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق،الخ(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، مط: ماجدیۃ)
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله،الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 244، مکتبۃ رشیدیۃکوئٹۃ)
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230]( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص:399،مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔