میں نے اپنی بیوی سے'' تم مجھ پر ہمیشہ کے لیے طلاق ہو '' کہااور نیت تین کی تھی، جب کہ میں نے صراحتا ً عدد ذکر نہیں کیا ،
تو اب میری بیوی پر کتنی طلاق واقع ہوگئی ہیں؟
واضح ہوکہ اگرشوہربیوی کوطلاق دیتےوقت عددِطلاق ذکرنہ کرےتو محض ایک بارطلاق کے الفاظ بولنےسے صرف ایک طلاق رجعی واقع ہوتی ہے، خواہ شوہر نےدل میں ایک سے زائدطلاق کی نیت کی ہو ، البتہ اگر صریح لفظِ طلاق کے ساتھ کوئی ایسی صفت ذکر کی جائے جس سے طلاق میں شدت اور دوام کا مفہوم پیدا ہو، تواس سے طلاقِ رجعی، طلاقِ بائن میں تبدیل ہوجاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کو یہ جملہ"تم مجھ پر ہمیشہ کے لیے طلاق ہو"کہاتواس سے سائل کی بیوی پرایک طلاقِ بائن واقع ہوکرمیاں بیوی کا نکاح ختم ہوگیاہے،اب سائل کو رجوع کا حق حاصل نہیں ،اور میاں بیوی کا بغیر تجدیدِ نکاح ساتھ رہنابھی شرعاً جائزنہیں ہے۔
البتہ اگر دونوں دوبارہ ازدواجی زندگی قائم کرنا چاہیں، تو عدت کے اندر یا بعد میں باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں تجدیدِ نکاح کرسکتے ہیں۔ تاہم اس صورت میں آئندہ کیلئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، بشرطیکہ اس سے پہلے کوئی اور طلاق نہ دی ہو، لہذاطلاق کے متعلق خوب احتیاط کی جائے۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: باب الصريح (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (الی قولہ): (ويقع بها واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا)،الخ (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 250۔247، مط: سعید کراچی)
وفی ردالمحتار تحت قولہ (وإن نوى خلافھا): قيد بنيته لأنه لو قال جعلتها بائنة أو ثلاثا كانت كذلك عند الإمام، ومعنى جعل الواحدة ثلاثا على قوله أنه ألحق بها اثنتين لا أنه جعل الواحدة ثلاثا، كذا في البدائع. ووافقه الثاني في البينونة دون الثلاث ونفاهما الثالث نهر، وتمامه فيه. (باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 250، مط: سعید کراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.( الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول، ج: 1، ص: 154، مط: ماجدیۃ)
وفیہ ایضاً: ولو قال أنت طالق كل يوم أو أبدا أو طالق الأيام أو قال أنت طالق اليوم وغدا أو بعد غد فهي واحدة وكذلك.(الفصل الثاني في إضافة الطلاق إلى الزمان وما يتصل بذلك، ج: 1، ص: 367، مط: ماجدیۃ)
وفی المبسوط للسرخسی: ألا ترى أنه لو قال: أنت طالق أبدا لم تطلق إلا واحدة ،الخ (باب من الطلاق، ج: 6، ص: 142، مط: دار المعرفة - بيروت، لبنان)
وفی بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع: وكذا إذا كان موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف مثل قوله: أنت طالق بائن أو أنت طالق حرام أو أنت طالق ألبتة ونحو ذلك وهذا عندنا.(الی قولہ): ولنا أنه وصف المرأة بالبينونة بالطلاق الأول وأنه مما يحتمل البينونة ألا ترى أنه تحصل البينونة قبل الدخول وبعده بعد انقضاء العدة؟ فكان قوله: بائن قرينة مبينة لا مغيرة، ثم إذا لم يكن له نية لا يقع تطليقة بقوله طالق والأخرى بقوله بائن ونحو ذلك؛ لأن قوله: بائن ونحو ذلك يصلح وصفا للمرأة بالطلاق الأول فلا يثبت إلا مقتضى واحد؛ لأن ثبوته بطريق الضرورة فيؤخذ فيه بالأدنى.( فصل في بيان صفة الواقع بكل واحد من نوعي الطلاق، ج: 3، ص: 110، مط: سعید کراچی )