میری شادی کو 9 سال ہو چکے ہیں ،میرے شوہر کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے جس کی وجہ سے وہ تھوڑے نفسیاتی ہو چکے ہیں اور جب ہماری لڑائی ہوئی، تو مجھے موبائل ایس ایم ایس میں پہلے ایک طلاق بولی ، پھر 3 مہینے میں رجوع کیا ، پھر کچھ وقت بعد ایک اور طلاق ایس ایم ایس میں لکھ کر دی، اور پھر تین ماہ میں رجوع بھی کر لیا ، پھر اب ایک ساتھ 3 طلاق ایس ایم ایس میں دوبارہ لکھ کر مجھے بھییجی ، جس کے الفاظ یہ تھے " میں اپنے ہوش اور حواس میں تم کو طلاق دیتا ہوں " یہ الفاظ تین بار لکھے ہوئے بھیجے مجھے اور وائس میسج میری بہن کو بھیجی ہے ، پر میں نے نہ پڑھا ایس ایم ایس، نا اپنی بہن کو بھیجا ہوا وائس میسج سنا ہے لیکن میری بہن نے صرف مجھے اتنا بولا ہے کہ: اس نے تمھیں چھوڑ دیا ہے تو کیا طلاق مکمل ہو گئی ہے ہماری ؟مہربانی کر کے مجھے بتائیں کیونکہ میرا اور کوئی آسرا نہیں ہے۔ مہربانی کر کے مجھے بتائیں کہ اس طرح موبائل میں ہوجاتی ہے اور میں نے پڑھی اور سنی نہیں ہے، ہو گئی ہے کہ نہیں اور کوئی راستہ ہے یا نہیں؟ کیونکہ میرے شوہر بہت پچھتا رہے ہیں اور بول رہے ہیں کہ نہیں ہوئی ہیں۔ میں نے مفتی سے پتا کروایا ہے اور معافی مانگ رہے ہیں دوبارہ رجوع چاہتے ہیں ، ہمارا ایک بیٹا بھی ہے 8 سال کا میں بہت پریشان ہوں۔
واضح ہوکہ بیوی کا الفاظ طلاق سننا یا پڑھنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ بیوی کی طرف نسبت کرتے ہوئے جب شوہر بغیر کسی قیدو شرط کے طلاق کے الفاظ کہہ دے تو اس سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوجاتی ہے،نیز ایس ایم ایس اور وائس کلپ کے ذریعے طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت ِمسئولہ میں سائلہ کے شوہر نے یکے بعد دیگرے صریح الفاظ میں دو مرتبہ اگر واقعۃً سائلہ کو بذریعہ میسج دو طلاقیں دیدی ہوں اور ہر دفعہ دوران عدت رجوع کرلیا ہو تو شرعاً ان دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا جائز و درست تھا ، تاہم اس کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہ گیا تھا، چنانچہ اب حالیہ واقعہ میں جب سائلہ کے شوہر نے بذریعہ میسج مذکور الفاظ " میں اپنے ہوش اور حواس میں تم کو طلاق دیتا ہوں " تین بار ارسال کردیئے، تو اس سے سائلہ پر بقیہ ایک طلاق بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور باقی الفاظ محل نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں ،چنانچہ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ عقد نکاح ہوسکتا ہے ،لہذا دونوں میاں،بیوی پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گزقائم نہ کریں ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے ،جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،ایساکرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ،مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدِنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہو،تو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ِثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگا،تاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرے،یہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔