السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
جناب ہم نے 2023 میں ایک گاڑی لی جس کا انٹرسٹ ہم ہر مہینے ادا کرتے ہیں ، اب ہم اس گاڑی کی بقایا رقم یکمشت ادا کر کے دوسری گاڑی لینا چاہ رہے ہیں ، تو کیا ہم پہلی والی گاڑی بیچ کر اس کے پیسے نئی گاڑی میں لگا سکتے ہیں یعنی پہلی والی گاڑی کی چونکہ انٹرسٹ پر ادائیگی ہوئی تو اس کو بیچ کر جو رقم ملے گی اس سے لی ہوئی گاڑی جائز ہو گی؟
واضح ہو کہ سودی لین دین قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے صریح نصوص کی روشنی میں ناجائز اور حرام ہے، چنانچہ سائل کا سودی معاہدہ کے تحت گاڑی خرید کر اس کی اقساط بھرنا شرعا ناجائز عمل تھا، جس پر سائل کو بصدق دل توبہ و استغفار اور اس غیر شرعی معاملہ کو جلد از جلد ختم کرنا لازم ہے، تاہم اگر سائل اب اس گاڑی کو فروخت کرنا چاہتا ہے، تو اسے فروخت کرنے کے بعد سائل کے پاس جو رقم آئىگی وہ شرعا سائل کے لیے جائز اور حلال ہے، اور اس رقم سے بغیر کسی سودی اور ناجائز لین دین کے دوسری گاڑی خریدنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا شرعاً جائز ہوگا۔
كما في القرآن الكريم: ﴿وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ﴾ [البقرة: 275]
وفي صحيح مسلم: عن جابر رضي الله عنه، قال: لعن رسول الله ﷺ أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء. [كتاب المساقات، باب لعن آكل الربا ومؤكله، رقم الحديث (1598) (106) ج:3 ص:1219 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت ت: عبد الباقي]
وفي بدائع الصنائع: (أما) [البيع] فالحكم الأصلي، (إلى قوله) فهو ثبوت الملك للمشتري في المبيع، وللبائع في الثمن للحال اهـ [كتاب البيوع، فصل في حكم البيع، ج:5 ص:233 ط: دار الكتب العلمية]
وفي الدر المختار: باب الربا هو لغة: مطلق الزيادة وشرعا (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئةوالبيوع الفاسدة فكلها من الربا فيجب رد عين الربا لو قائما لا رد ضمانه لأنه يملك بالقبض قنية وبحر اهـ [كتاب البيوع، باب الربا، ج:5 ص:169 ط: سعيد]
وفي الهداية: وإذا قبض المشتري المبيع في البيع الفاسد بأمر البائع وفي العقد عوضان كل واحد منهما مال ملك المبيع ولزمته قيمته. [كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، فصل في أحكامه، ج:3 ص:51 ط: دار إحياء التراث العربي بيروت]
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1