میرے شوہر نے دو دن پہلے کہا: "آج کے بعد اگر تم نے میرے فون کو ہاتھ لگایا تو تمہیں طلاق ہے"۔ میں نے کہا: آپ سوچ رہے ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں؟ پھر انہوں نے کہا: "جس دن تم نے میرے فون کو ہاتھ لگایاتمہیں طلاق ہے، بس"۔میں نے ابھی تک ایسا نہیں کیا، لیکن اگر میں یہ کام کر لوں تو کیا دو طلاقیں واقع ہوں گی یا ایک طلاق واقع ہوگی؟ براہِ کرم میری راہنمائی فرمائیں، میں بہت پریشان ہوں۔
سائلہ کابیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہواور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو مذکور الفاظ"آج کے بعد اگر تم نے میرے فون کو ہاتھ لگایا تو تمہیں طلاق ہے" کہنے کے بعد سائلہ کےمتنبہ کرنے کے باوجود اس نےجب دوبارہ یہی الفاظ دہرائے، تو اگر شوہر نے اپنے اس عزم پر برقرار رہتے ہوئے مستقل طلاق کی نیت سے یہ جملہ دہرایا ہو تو ان الفاظ سے سائلہ پر دو طلاقیں معلق ہوگئی ہیں ، لہذا اس کے بعد اگرسائلہ کسی بھی وقت اپنے شوہر کے موبائل کو ہاتھ لگائے گی ،تو اس پر دو طلاق رجعی واقع ہوجائےگی ،جس کے بعداگر سائلہ کا شوہر عدت کے اندر ہی رجوع کرلےبشرطیکہ اس واقعہ کے علاوہ انہوں نے مزید کوئی طلاق نہ دی ہو ، تو اس سے ان کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا اور سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ کیلئے فقط ایک طلاق کا اختیار باقی رہےگا ، اس لئےآئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے ۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (الی قولہ): (ويقع بها واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينوشيئا)، الخ (باب الصريح ، ج: 3، ص: 250۔247، مط: سعید کراچی)
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله،الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 244، مکتبۃ رشیدیۃکوئٹۃ)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق،الخ(ج: 1، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ص: 420، مط: ماجدیۃ)
وفی الھدایۃ شرح بدیۃ المبتدی: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها ( باب الرجعة، ج: 2، ص: 254، مط: دار احياء التراث العربي، بيروت - لبنان)
’’اگر میری بیوی دو دن کے اندر نہیں آئی تو وہ میری بیوی نہیں ہوگی‘‘ کہنے سے طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0’’اگر میں نے اپنی بیوی کو والد صاحب کے ساتھ ایک گھر میں بٹھایا تو وہ مجھ پر طلاق ہو گی‘‘ سے تعلیق طلاق کا حکم
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0اگر کوئی اپنے بیٹے سے کہدے کہ "اگر میں نے تیرے لئے شادی کی تو بیوی کو طلاق "اس صورت میں بیٹے کی شادی کی کیا ترتیب ہوسکتی ہے ؟
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0معلق طلاق کی صورت میں جب ایک دفعہ شرط پائے جانے کی وجہ سے طلاق ہو جائے تو دوبارہ طلاق واقع نہ ہونا
یونیکوڈ طلاق معلقہ 0