السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! ہمارے والدین کے درمیان کافی عرصہ سے گھریلو مسائل چل رہے تھے،تقریباً 22 سال پہلے جب ہماری ایک بہن ابھی پیدا بھی نہیں ہوئی تھی ،ہمارے والد نےایک جھگڑے کی وجہ سے ہماری والدہ کو دو طلاقیں دی تھی (جیسا کہ ہماری والدہ بتاتی ہیں)۔ اس کے بعد کئی سال گزر گئے اور دونوں ایک ہی گھر میں رہتے رہیں۔
پھر ایک رات (6 فروری 2026) کو ہمارے والد نے ہم چھ (6) بہن بھائیوں کے سامنے ہماری والدہ کو گیارہ (11) سے پندرہ (15) بار کہا میں تمھیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں.
اب مسئلہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث،سنت اور فقہ کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں کہ :
(1) کیا ان الفاظ سے طلاق ہو چکی ہے ؟
(2) کیا اب نکاح باقی ہے یا ختم ہو گیا ؟
(3) اس صورت حال میں ہمارے والدین کو کیا کرنا چاہیے؟
صورت مسئولہ میں اگر واقعی سائل کی والدہ کے بیان کے مطابق سائل کے والد 22 سال قبل دو طلاقیں دیکر عدت کے اندر رجوع کرچکےتھےتو دونوں کانکاح برقرار تھا ،البتہ حالیہ واقعہ میں اگرسائل کے والد نے مذکور جملہ "میں تمہیں طلاق دیتاہوں" متعددبارکہاہو تو ان الفاظ سے مزید ایک طلاق واقع ہو کرتین طلاقوں کے ذریعہ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہےاور بقیہ الفاظ طلاق محل باقی نہ رہنے کی وجہ سے لغو ہوگئے ہیں ،چنانچہ اب نہ رجوع ہوسکتاہے ، اورنہ ہی حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدنکاح ہوسکتا ہے، لہذا دونوں پرلازم ہےکہ فوراً ایک دوسرےسےعلیحدگی اختیارکریں اورمیاں بیوی والےتعلقات ہرگزقائم نہ کریں ،ورنہ دونوں سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ سائل کی والدہ عدت مکمل کرنے کے بعد اگرکسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہیں تو وہ اس کیلئے بھی شرعاً آزاد ہوگی۔
کما فی تنویر الابصار مع الدر المختار: (صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقة) (الی قولہ): (ويقع بها واحدة رجعية، وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا)،الخ (باب الصريح ، ج: 3، ص: 250۔247، مط: سعید کراچی)
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز.( الباب الثاني في إيقاع الطلاق وفيه سبعة فصول، ج: 1، ص: 154، مط: ماجدیۃ)
وفي البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قوله: (ويقع طلاق كل زوج عاقل بالغ) لصدوره من أهله في محله،الخ (كتاب الطلاق، ج: 3، ص: 244، مکتبۃ رشیدیۃکوئٹۃ)
وفی الھدایۃ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها " والأصل فيه قوله تعالى: {فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ} [البقرة: 230]( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج:2، ص:399،مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔