السلام علیکم!
مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے ڈھائی سال قبل میرے شوہر نے فون پر طلاق دی۔ جب انہوں نے دو دفعہ طلاق دی تو ان کی ہمشیرہ نے زبردستی مجھ سے فون چھین لیا۔ اس کے بعد انہوں نے مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی مجھے کوئی خرچہ بھیجا۔ تین دن پہلے میرے شوہر نے دوبارہ واٹس ایپ پر ایس ایم ایس کیا کہ "میری طرف سے تم فارغ ہو "اور اپنے مستقبل کا خود فیصلہ کرو، نئی زندگی کی شروعات کرو،میری شادی بارہ سال پہلے ہوئی، میرے شوہر تقریباً گیارہ سال سے بیرونِ ملک جا کر رہ رہے ہیں، پہلے وہ مجھے کچھ نہ کچھ خرچہ دیتے رہے، تب تک میں اپنے گھر میں رہ رہی تھی، مگر جب انہوں نے طلاق دی تو اس کے بعد میں اپنے والدین کے گھر میں رہ رہی ہوں۔ میں بے سہارا ہو کر اپنے شادی شدہ بھائیوں پر بوجھ بن کر رہ گئی ہوں۔
لہٰذا میں چاہتی ہوں کہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے نکاح کر کے نئی شروعات کروں، مگر میرے بھائی اس کے لیے راضی نہیں۔ میرے پہلے شوہر سے نباہ مشکل ہے۔ میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اپنا مستقبل بہتر طریقے سے گزار سکوں،اس سے پہلے میں تحریری طور پر خلع کا نوٹس بھی بھیج چکی ہوں، مگر وہ خود اس ایڈریس پر موجود نہیں تھے، ان کی بہن اور بہنوئی نے جواب دیا کہ اس کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔
(نوٹ) وہ “میں اس کو طلاق دیتا ہوں” کے الفاظ دو مرتبہ بول چکے تھے، اور ان دو طلاقوں کے بعد تقریباً ڈھائی سال تک کوئی رابطہ نہیں کیا۔ ابھی کچھ دن قبل یہ آخری میسج کیا ہے، نیز لڑکا لڑکی دونوں پہلے شیعہ تھے، اب لڑکی اہلِ سنت بن گئی ہے۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعًۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس طور پر کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے ڈھائی سال قبل فون پر مذکورالفاظ "میں اسے طلاق دیتاہوں " دودفعہ کہہ دیئے تھے تو اس سے سائلہ پر دو طلاقیں واقع ہوچکی تھیں،چنانچہ اس کے بعد اگر شوہر نےعدت ختم ہونے تک کوئی رجوع نہ کیا ہو تو میاں بیوی کے درمیان رشتۂ زوجیت ختم ہو چکاہے، اب دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی بن چکےہیں،لہذا سائلہ عدت پوری ہوجانے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
وفي الهندية : فيمن قال لامرأته كوني طالقا أو اطلقي قال أراه واقعا ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أو قال قد طلقتك قد طلقتك أو قال أنت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها، الخ(ج؛1 ص : 355 الفصل الاول فی طلاق الصریح ناشر: المطبعۃ الکبری الامیریہ)
وفيہا ایضاًإذا طلق الرجل امرأته طلاقا بائنا أو رجعيا أو ثلاثا أو وقعت الفرقة بينهما بغير طلاق وهي حرة ممن تحيض فعدتها ثلاثة أقراء سواء كانت الحرة مسلمة أو كتابية كذا في السراج الوهاج.اھ(ج:1ص:526 ،باب الثالث عشر فی العدۃ ناشر : المطبعۃ الکبری الامیریہ)
وفی ردالمحتار: لما فرغ من نكاح الأحرار والأرقاء من المسلمين شرع في نكاح الكفار وتقدم في آخر باب المهر حكم مهر الكافر، وأنه تثبت بقية أحكام النكاح في حقهم كالمسلمين: من وجوب النفقة في النكاح، ووقوع الطلاق ونحوهما: كعدة ونسب، وخيار بلوغ، وتوارث بنكاح صحيح، وحرمة مطلقة ثلاثا ونكاح محارم ،الخ(ج:3 ص : 184 باب نکاح الکافر ناشر: سعید)