،کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کو نکاح کے بعد خلوت صحیحہ و رخصتی سے قبل تحریری طور پر تین طلاقیں دے دی گئی جبکہ نکاح میں ایک لاکھ روپے مہر مقرر تھا۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مقررہ مہر میں سے کتنا ادا کرنا لازم ہوگا اور میری بیٹی پہ عدت گزارنا لازم ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ نکاح کے بعد، خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں شوہر کے ذمہ شرعا نکاح میں مقرر شدہ مہر کا آدھا لازم ہوتا ہے اور عورت پراس صورت میں عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہوتا ،بلکہ ایسی عورت طلاق کے فورا بعد دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیٹی کے شوہر کے ذمہ مقررہ مہر میں سے آدھا یعنی 50 ہزار روپے ادا کرنا لازم ہے اور سائل کی بیٹی پر عدت گزارنا بھی لازم نہیں ہے بلکہ بغیر عدت کے بھی وہ دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے۔
کما قال اللہ تعالیٰ فی کلامہ المجید: "وَإِن طَلَّقۡتُمُوهُنَّ مِن قَبۡلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدۡ فَرَضۡتُمۡ لَهُنَّ فَرِيضَةٗ فَنِصۡفُ مَا فَرَضۡتُمۡ ۔الخ"(سورۃالبقرۃ،آیت:237)
وفی الھدایۃ: وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية،(ج:2،ص:324،باب المھر،مط:شرکت علمیۃ ملتان)۔
وفی الفتاویٰ الھندیۃ: أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول،الخ (ج:1،الباب الثالث عشر في العدة، ص:526،مط:ماجدیۃ)
وفي الدرالمختار: (وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوةلرتقاء. وشرطهاالفرقة (ج:3، ص:504، مط: سعید )