محترم علما ءدین ، السلام علیکم ! گزارش عرض یہ ہے کہ " میرے شوہر نے دو گواہان ،بھائی اور اپنے بہنوئی کے سامنے ،میری بہن و بہنوئی کے سامنے گھر آکر باقاعدہ بیٹھ کر مجھ سے کہا کہ ہمارا رشتہ نہیں چل سکتا، لہذا میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ، میں نے انھیں روکنے کی کوشش کی، وجہ پوچھی، مگر وہ رکے نہیں ،وہ پوری تیاری سے آئے تھے، مجھے معلوم نہیں تھا کہ وہ یہ اقدام کرنے کے لیے آئے ہیں، کیونکہ میں انکی اجازت سے آئی تھی اپنی بہن کے گھر ،ہمارا کوئی جھگڑا بھی میں نہیں ہوا کہ بات اس نوبت تک آجائے ، اس کے علاوہ وہ مہر کی رقم مبلغ ایک لاکھ ساتھ لے کر آئے تھے، میرے شوہر نے اس طلاق کے متعلق مجھ سے بات تک نہیں کی، چھوٹی چھوٹی ہزار باتیں میاں بیوی میں ہوتی ہیں ، وہ غصہ کے تیز ہیں، مگر میں ہمیشہ تحمل سے بات کرتی ہوں ، اسی لئے مجھے سمجھ نہیں آسکی کہ طلاق کیوں دی ؟ جب بہت پوچھا تو ایک جواب کہ ذہنی ہم آہنگی نہیں ہے ،شادی سے پہلے میں ان کے ذہن کے مطابق تھی، وہ رشتے میں میرے چچا زاد ہیں ،کزن سے شادی ہوئی ، میرے شوہر نے مجھے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں ایک ساتھ دے دی ہیں ، سوال نمبر ١ -اب میرا سوال یہ ہے کہ آیا طلاق ہو گئی ہے کہ نہیں ؟ اور محمّد صلى الله عليه وسلم کی احادیث مبارکہ اور قرآن پاک کی روشنی میں راهنمائی فرمائیں اوراسکا حل بتائیں مهربانی کرکے۔ سوال نمبر٢ دوسرا سوال یہ کہ تین طلاقیں ایک ساتھ دی گئیں ہیں تو کیا یہ (1) ایک طلاق واقع ہوگئی ہے ؟ اور اگر رجوع ہوسکتا ہے تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا ؟ براہ مہربانی مجھے شریعت محمّد صلى الله علیہ وسلم اور قرآن کریم کی روشنی میں صحیح راہ نمائی فرمائیں.
نوٹ: مزید یہ کہ میں طلاق نہیں چاہتی اپنے شوہر سے، اگر وہ رجوع کرتے ہیں تو میں انکے ساتھ رہنا چاہونگی ، اسی لئے ابھی تک میں نے طلاق نامہ جو میرے شوہر نے دیا ہے ، اس پر دستخط نہیں کیا ، میری شادی کو صرف 5 ماہ ہوئے ہیں ، میں نے ابھی تک جو قرآن پاک میں پڑھا ہے ،سمجھا ہے کہیں پہ بھی 3 طلاق ساتھ دینے کے متعلق کوئی ذکر نہیں ہے ،لہذا کیا غلط ہے کیا صحیح ہے شریعت محمدؐ اور قرآن کی روشنی میں بتا دیں ۔ تاکہ میں اللہ کے عذاب سے محفو ظ رہوں اور شریعت کے مطابق فیصلہ کر سکوں ۔ شکریہ
واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں طلاق دینے کا مسنون اور مستحسن طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی منکوحہ کو حالتِ طہر میں (جس میں جماع نہ کیا ہو) ایک طلاق دے، پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دے یہاں تک کہ وہ عدت گزار لے، اس صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوکر عدت گزر نے پر نکاح ختم ہوجاتا ہے ، البتہ اگر کوئی شخص اس مسنون طریقہ کے خلاف عمل کرتے ہوئے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دے، خواہ ایک ہی جملہ سے (مثلاً: "تجھے تین طلاق ہے") یا الگ الگ جملوں سے (مثلاً: "تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں") تو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ،تابعین عظام رحمہم اللہ اورامت کے چاروں ائمہ کرام (امام اعظم ،امام مالک ،امام شافعی،امام احمد بن حنبل رحمھم اللہ)سب کااس پراتفاق ہےکہ اس سے تینوں طلاقیں واقع ہوکر نکاح ختم ہوجاتا ہے۔اس حکم کی دلیل کے طورپرقرآنِ کریم کی آیتِ مبارکہ:﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾(البقرۃ: 229)سے استدلال کیا گیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ طلاق (رجعی) دو مرتبہ تک ہے، پھر یا تو بھلے طریقے سے روکنا ہے یا حسنِ سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے۔ علماءِ کرام نے اس آیت سے یہ نکتہ اخذ کیا ہے کہ جب دو طلاقیں ایک ساتھ واقع ہوسکتی ہیں تو تین کے وقوع میں بھی کوئی مانع نہیں، کیونکہ دو اور تین کے درمیان تفریق کی کوئی دلیل موجود نہیں، لہٰذا ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کو ایک شمار کرنے کا قول قرآن وسنت کی صریح نصوص اورجمہورامت کےعمل کے خلاف ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا درست نہیں، بلکہ اس سے احتراز لازم ہے۔
نیز عورت كا طلاق نامہ پر دستخط کرنے یا نہ کرنے سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑتا، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ كا بيان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اسمیں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو مذکور الفاظ " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ، طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں " سے سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتااورحلالہ شرعیہ کے بغیرباہم عقدنکاح بھی ممکن نہیں ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی، اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت ایّام عدت گزارنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرےمسلمان سے اپنا عقد نکاح کرے ، چنانچہ اگر وہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ ہمبستری ( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے ) کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے ، مگر شوہر کا پہلے انتقال ہو جائے ، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے عقد نکاح میں آنا چاہے اور پہلا شوہر بھی اسے رکھنے پر رضا مند ہو تو نئے مہر کے تقرر کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ عقد نکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں ، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی ہمبستری کے بعد بیوی کو طلاق دیگا ، تاکہ وہ زوج اول کے لئے دوبارہ حلال ہوجائے ، مکروہ تحریمی ہے اور اس پر احادیثِ مبارکہ میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ بلا شرط ایسا کرنا بلا شبہ جائز اور درست ہے۔
کما فی صحیح البخاری : و قال الليث: حدثني نافع، قال : كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه و سلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك»(5264)۔
و فی احکام القرآن للجصاص : قال أبو بكر: قوله تعالى : ( الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان ) الآية ، يدل على وقوع الثلاث معامع كونه منهياعنها،اھ(ج: ١ ، ص : ٣٨٦ )
وفیہ ایضاً : فالكتاب والسنة وإجماع السلف توجب إيقاع الثلاث معا و إن كانت،معصية، اھ (ج:١، ص: ٣٨٧ )
و فی الفتاوی الھندیۃ : و إذا قال لامرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً اھ (ج:١،ص:٣٥٥،مط: ماجدیۃ)
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اه (كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )