میں ایک نو مسلم (اسلام قبول کرنے والی) خاتون ہوں، میرا نکاح فون کال کے ذریعے ہوا تھا، میں اور میرے شوہر دونوں دبئی، متحدہ عرب امارات میں موجود تھے، جبکہ مفتی صاحب اور گواہ پاکستان میں تھے، ہمارے پاس کوئی گواہ موجود نہیں تھا، نکاح نامہ موبائل فون پر بھیج دیا گیا تھا، کیا حنفی فقہ کے مطابق یہ نکاح درست اور معتبر شمار ہوگا؟ اور اگر یہ نکاح درست نہ تھا، تو بعد میں میرے شوہر نے جو مجھے تین طلاقیں دیں، کیا ان طلاقوں کا کوئی اثر یا شرعی حکم ہوگا؟
واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی یا ان کے وکیلوں اور گواہوں کا ایک مجلس میں موجود ہونا اوران گواہوں کےسامنے اس طرح ایجاب وقبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحت نکاح کے لیے شرط ہے، اس کے بغیرشرعا نکاح منعقد نہیں ہوتا، لہذاصورت مسئولہ میں اگر سائلہ اور اس کے شوہر دونوں نے مفتی صاحب کو وکیل بنایا ہو ، اور مفتی صاحب نے مجلس نکاح میں گواہان کی موجودگی میں دونوں کا نکاح کرایا ہو تو یہ نکاح شرعاً منعقد ہو چکا ہے، البتہ اس کے بعد اگر واقعۃً سائلہ کے شوہر نے سائلہ کو دخول کےبعد تین طلاقیں دے دی ہوں ، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سےعلیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ کار ہوں گے، جبکہ سائلہ ایام عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار: ومن شرائط الایجاب والقبول اتحاد المجلس لو حاضرین، وان طال۔ اھـ (3/14)۔
و فی الدر المختار: (وشرط سماع کل من المتعاقدین لفظ الآخر) لیتحقق رضاھما (و)شرط (حضور) شاھدین (حرین) أو حر وحرتین (مکلفین سامعین قولھما معا) الخ(21/3کتاب النکاح ط:سعید)۔
و فی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله - عز وجل - {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛الخ (3/187 فصل في حكم الطلاق البائن ط ماجدیہ)۔
و فی الھندیۃ: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ ( 473/1 فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج ط: ماجدیہ)۔