کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ۔۔۔ولد محمد ۔۔۔کا نکاح مسماۃ۔۔۔ بنت ۔۔۔ کے ساتھ بتاریخ 23.03.2015 میں ہوا تھا، پھر ۔۔۔ولد محمد ۔۔۔ نے اپنی زوجہ ۔۔۔ بنت ۔۔۔کو بمورخہ 19.02.2021 میں پہلی طلاق دے دی، پھر ۔۔۔ ولد محمد ۔۔۔ نے بمورخہ 18.03.2021 کو رجوع کرلیاہے، گواہوں کی موجودگی میں۔ اب لڑکی کا باپ کہتا ہے مجھے صرف طلاق نامہ موصول ہوا ہے نہ کو رجوع نامہ ۔
پوچھنا یہ ہے کہ مذکور صورت میں رجوع کا کیا حکم ہے، آیا اس طرح بھی رجوع ہوسکتا ہے، کہ شوہر رجوع کرلے اور بیوی کے علم میں ہونا ضروری ہے یا نہیں۔
واضح ہو کہ رجوع درست ہونے کے لئے شرعاً بیوی کو اطلاع دیناضروری نہیں ہے ، بلکہ اس کے بغیر بھی دوران عدت رجوع کرنے سے شرعا رجوع درست ہوجاتا ہے ، لہذا صورت مسؤلہ میں اگر سائل نے ایک طلاق رجعی کے بعد دوران عدت ہی دو گواہوں کی موجودگی میں رجوع کرلیا ہو ( جیسا کہ سوال میں مذکور ہے) تو اس سےشرعا رجوع درست ہوچکا ہے، اور دونوں میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار ہے۔
وفی الھندیہ: تصح الرجعة مع الإكراه والهزل واللعب والخطأ كالنكاح وفي القنية إن أجاز مراجعة الفضولي صح كذا في البحر الرائق ( الباب السادس فی الرجعۃ، ج: 1، ص: 470، ط: ماجدیہ)
وفی الدر المختار: (وندب إعلامها بها) لئلا تنكح غيره بعد العدة، فإن نكحت فرق بينهما وإن دخل شمني (وندب الاشهاد) بعدلين ولو بعد الرجعة بالفعل (و) ندب (عدم دخوله بلا إذنها عليها) لتتأهب وإن قصد رجعتها لكراهتها بالفعل كما مر،(ادعاها بعد العدة فيها) بأن قال كنت راجعتك في عدتك،(فصدقته صحح) بالمصادفة (وإلا لا) يصح إجماعا (و) كذا (لو أقام بينة بعد العدة أنه قال في عدتها قد راجعتها أو) أنه (قال قد جامعتها) وتقدم قبولها على نفس اللمس والتقبيل فليحفظ (كان رجعة) لان الثابت بالبينة كالثابت بالمعاينة، وهذا من أعجب المسائل حيث لا يثبت إقراره بإقراره بل بالبينة اھ ( باب الرجعۃ، ج: 3، ص: 401، ط: سعید)
وفی الھندیۃ : الرجعۃ ابقاء النکاح علی ما کان ما دامت فی العدۃ کذافی التبیین وھی علی ضربین سنی و بدعی فالسنی ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقول لھا راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد ولم یعلمھا بذلک فھو بدعی مخالف للسنۃ والرجعۃ صحیحۃ وان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا (الباب السادس فی الرجعۃ ، ج : 1 ، ص : 468 ، ط : ماجدیہ )