السلام علیکم،
میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ سفر کے بعد میری جلد بہت زیادہ سانولی ہو گئی ہے، اب مجھے جلد کو گورا کرنے والی مصنوعات (whitening products) خریدنے پر کافی خرچ کرنا پڑے گا۔ اس پر انہوں نے کہا: "مجھے تمہاری جلد کا رنگ پسند ہے، اگر تم نے whitening products پر ایک درہم بھی خرچ کیا تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔"
میں نے فوراً کہا کہ آپ ایسا نہ کہیں کیونکہ یہ بات سنجیدگی سے لاگو ہو سکتی ہے۔ پھر انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا یہ مطلب نہیں تھا، بلکہ وہ محبت میں یہ بات کہہ رہے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا: "میں تمہیں کبھی بھی کسی وجہ سے طلاق نہیں دوں گا، خاص طور پر whitening products خریدنے کی وجہ سے نہیں، اور تم جو چاہو خرید سکتی ہو۔"
اب مسئلہ یہ ہے کہ بہت سی skin care products، حتیٰ کہ face wash وغیرہ میں بھی whitening یا brightening ingredients شامل ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ میرے پاس کچھ ایسی مصنوعات پہلے سے موجود ہیں جو میں روزانہ استعمال کرتی ہوں اور ان میں بھی whitening ingredients شامل ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر انہوں نے اپنی بات واپس لے لی تھی تو کیا پھر بھی اس کا کوئی اثر شمار ہوگا؟ اور اگر نہیں، تو کیا میں وہ مصنوعات استعمال کر سکتی ہوں جو میں پہلے ہی خرید چکی ہوں کیونکہ وہ اس بات سے پہلے خریدی گئی تھیں؟ اور آئندہ کے لیے کیا میں مختلف کرنسی میں یا ایک درہم سے زیادہ قیمت کی whitening products خرید سکتی ہوں، کیونکہ انہوں نے خاص طور پر ایک درہم کا ذکر کیا تھا؟ یا اس مسئلے کا کوئی اور حل ہے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں،جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہرنے چونکہ " طلاق دیدوں گا" کےالفاظ استعمال کیے ہیں ،جو محض وعدہ طلاق اور طلاق کی دھمکی پر مشتمل ہیں،جبکہ طلاق کی دھمکی سے طلاق واقع نہیں ہو تی، لہذا سائلہ سوال میں مذکور تمام پروڈکٹس کا استعمال کرسکتی ہے چاہے ایک درہم کی قیمت کی ہوں یا اس سے زائد، خواہ یہ الفاظ کہنے سے قبل خریدی گئی ہوں یا بعد میں چنانچہ ان پروڈکٹس کے استعمال سے سائلہ پرکوئی طلاق واقع نہ ہوگی ،اس لئے سائلہ کو پریشان ہو نے کی ضرورت نہیں ،تاہم سائلہ کے شوہر کو طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
وفی شرح کنزالدقائق : لو قال: أطلقك لم يقع إلا إذا غلب استعماله في الحال ،الخ ،( باب ثلاث الصریح ،ج: 2 ص:322 ناشر : دار الکتب العلمیہ)
وكما فی محیط البرہانی : قوله: أطلق، لا يكون طلاقاً في أنه دائر بين الحال والاستقبال فلم يكن تحقيقاً مع الشك،الخ( الفصل السابع والعشرون ج:3 ص : 472 ناشر: بیروت )
وفی البحر الرائق : «وليس منه أطلقك بصيغة المضارع إلا إذا غلب استعماله في الحال كما في فتح القدير.» اھ (باب الفاظ الطلاق ج: 3 ص: 271 ناشر : الثانیۃ )