السلام عليكم ورحمۃاللہ وبرکاتہ، شریعت کی روشنی میں مسئلہ کی وضاحت چاہتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ بندہ مصطفی کی بیوی فرحت بی بی کسی مولانا کے پاس جاتی تھی دعا وغیرہ کے لیے ، کیونکہ ان کے شوہر پر کچھ جنات کے اثرات تھے ، بعد میں شوہر نے جانے سے قطعاً منع کیا ، پھر ایک مرتبہ شوہر گھر پر آیا تو دروازے کو تالا پایا ، تو اسی وقت اس نے کہا کہ اگر میری بیوی وہاں گئی ہے تو تین طلاق ہے ، جب بات ظاہر ہوئی تو بیوی وہاں گئی تھی، پھر اس نے اپنی بیوی کے بھائی حبیب اللہ کو فون کیا اور سارا مسئلہ بیان کر نے کے بعد کہا کہ اپنی بہن فرحت بی بی کو اپنے ساتھ ماں کے گھر لے جاؤ ، پھر حبیب اللہ بھائی نے مصطفی کو بلایا اور اپنے مقامی امام مسجد کے پاس بٹھایا اور امام کے سامنے مصطفی بھائی نے تین مرتبہ یہی الفاظ دہرائے ، علماء سے تعاون کی اپیل ہے۔
واضح ہو کہ شوہر اگر طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کردے تو شرط کے پائے جانے پرطلاق واقع ہوجاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے جب اپنی بیوی کی طلاق کو مذکور عامل مولانا کے پاس جانے کے ساتھ معلق کیا اور بیوی واقعۃً مولانا کے پاس گئی بھی تھی تو شرط کے پائے جانے کی وجہ سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجو ع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم دوبارہ عقد نکاح ہوسکتا ہے ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں وگرنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ ایام عدت گزرنے کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
کما فی الہندیۃ: وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق (الی قولہ) التعليق بصريح الشرط وهو أن يذكر حرف الشرط يؤثر في المرأة المعينة وغير المعينة، اہ (کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، ج:١، ص: ٤٢٠، مط: ماجدية )
وفي الهداية : وإذا أضافه إلى شرط وقع عقيب الشرط مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق" وهذا بالاتفاق لأن الملك قائم في الحال والظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط فيصح يمينا أو إيقاعا، اه(باب الأيمان في الطلاق، ج: ١، ص: ٢٤٤، مط: دار احياء التراث العلمي )
كما في الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير، اھ(كتاب الطلاق ،فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج: ١، ص: ٤٧٣، مط: ماجدية )