السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته
محترم مفتی صاحب!
میرا نام ایمل خان هے میرا تعلق زیارت, بلوچستان سے هے۔
ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے،
ایک بچی تھی جس کی والدہ نے اسے دودھ چھڑوا دیا تھا کیونکہ رضاعت کی مدت (دو سال) مکمل ہو چکی تھی۔ اس کے بعد وہ بچی بھوک کی وجہ سے رو رہی تھی، تو میری دادی نے میری والدہ سے کہا کہ وہ اسے دودھ پلائیں۔ چنانچہ میری والدہ نے اس بچی کو صرف ایک مرتبہ دودھ پلایا۔
اب وہ بچی بڑی ہو چکی ہے اور اس کی ایک بیٹی ہے۔ میں اس بچی کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔
رہنمائی فرمائیں،
1) کیا اس صورت میں رضاعت ثابت ہوتی ہے؟
2) کیا اس لڑکی سے میرا نکاح جائز ہے؟
واضح رہے کہ بچہ کو دودھ پلانے کی مدت زیادہ سے زیادہ 30 ماہ (یعنی ڈھائی سال ) ہےاس دورانیہ میں کسی عورت کا کسی بچہ /بچی کو دودھ (چاہے ایک چسکی یا ایک مرتبہ ہی کیوں نہ ہو) پلانے سے ان دونوں کے درمیان حرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔
چنانچہ صورت مسئولہ میں اگر مذکور بچی نے سائل کی والدہ کا دودھ ڈھائی سال کی عمر ہوجانے سے قبل پی لیا ہو تو وہ سائل کی رضاعی بہن اور اسکی بیٹی رضاعی بھانجی بن گئی اور رضاعی بھانجی سے نکاح اسی طرح ناجائز اور حرام ہے جس طرح حقیقی بھانجی سے ، لہذا ایسی صورت میں سائل کا مذکور لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا شرعا جائز نہیں ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی مبسوط السرخسی: "ثم اختلف العلماء في المدة التي تثبت فيها حرمة الرضاع ، فقدر أبو حنيفة رحمه الله تعالى بثلاثين شهراً وأبو يوسف ومحمد - رحمهما الله تعالى - قدرا ذلك بحولين وزفر قدر ذلك بثلاث سنين، فإذا وجد الإرضاع في هذه المدة تثبت الحرمة وإلا فلا، واستدلا بظاهر قوله تعالى: {والوالدات يرضعن أولادهن حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة}، ولا زيادة بعد التمام والكمال، وقال الله تعالى: { وفصاله في عامين}، ولا رضاع بعد الفصال، ولأن الظاهر أن الصبي في مدة الحولين يكتفي باللبن وبعد الحولين لايكتفي به فكان هو بعد الحولين بمنزلة الكبير في حكم الرضاع وأبو حنيفة رحمه الله تعالى استدل بقوله تعالى: {وحمله وفصاله ثلاثون شهراً} وظاهر هذه الإضافة يقتضي أن يكون جميع المذكور مدةً لكل واحدة منهما إلا أن الدليل قد قام على أن مدة الحبل لاتكون أكثر من سنتين فبقي مدة الفصال على ظاهره، وقال الله تعالى: {فإن أرادا فصالاً عن تراض منهما وتشاور} الآية فاعتبر التراضي والتشاور في الفصلين بعد الحولين فذلك دليل على جواز الإرضاع بعد الحولين، وقال الله تعالى: {وإن أردتم أن تسترضعوا أولادكم فلا جناح عليكم} قيل: بعد الحولين إذا أبت الأمهات، ولأن اللبن كما يغذي الصبي قبل الحولين يغذيه بعده والفطام لايحصل في ساعة واحدة، لكن يفطم درجةً فدرجةً حتى ينسى اللبن ويتعود الطعام، فلا بد من زيادة على الحولين بمدة، وإذا وجبت الزيادة قدرنا تلك الزيادة بأدنى مدة الحبل، وذلك ستة أشهر اعتبارًا للانتهاء بالابتداء، وبهذا يحتج زفر رحمه الله تعالى أيضاً إلا أنه يقول: لما وجب اعتبار بعض الحول وجب اعتبار كله، وتقدر مدة الفطام بحول؛ لأنه حسن للاختبار والتحول به من حال إلى حال. (قال:) فإن فطم الصبي قبل الحولين ثم أرضع في مدة ثلاثين شهراً عند أبي حنيفة رحمه الله تعالى أو في مدة الحولين عندهما، فالظاهر من مذهبهما وهو قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى: أنه تثبت به الحرمة لوجود الإرضاع في المدة، فصار الفطام كأن لم يكن، وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى قال: هذا إذا لم يتعود الصبي الطعام حتى لايكتفي به بعد هذا الفطام"اھ (باب الرضاع،ج:5،ص:137،دارالمعرفۃ)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0