طلاق

خلوت صحیحہ سے قبل دی ہوئی طلاق کا حکم

فتوی نمبر :
92998
| تاریخ :
2026-03-07
معاملات / احکام طلاق / طلاق

خلوت صحیحہ سے قبل دی ہوئی طلاق کا حکم

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته،
محترم مفتی صاحب! میں ایک نہایت حساس اور سنگین شرعی مسئلہ کے بارے میں آپ سے رہنمائی چاہتا ہوں اور عاجزانہ درخواست ہے کہ قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس کا واضح فتویٰ عطا فرمایا جائے۔ میں اس معاملے کی وجہ سے شدید ذہنی پریشانی اور اضطراب میں ہوں اور مجھے فوری رہنمائی کی ضرورت ہے۔ میرا نکاح تقریباً ایک سال پہلے اپنی خالہ کی بیٹی کے ساتھ ہوا تھا۔ نکاح باقاعدہ شرعی طریقے سے ہوا تھا، لیکن ابھی تک ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ رخصتی اس وجہ سے مؤخر ہو گئی تھی کہ اس وقت لڑکی کی والدہ شدید بیمار تھیں اور اسپتال میں داخل تھیں۔ میں چونکہ اسپتال میں نرس کی حیثیت سے کام کرتا ہوں، اس لیے میں نے ان کی اچھی طرح خدمت اور دیکھ بھال کی۔ الحمدللہ اب وہ صحت یاب ہو چکی ہیں۔نکاح کے بعد ہمارے درمیان عمومی طور پر اچھے تعلقات تھے، لیکن اس دوران لڑکی کے گھر والے مختلف وجوہات کی بنا پر بار بار طلاق کا ذکر کرتے رہتے تھے اور کبھی کبھار اس کا مطالبہ بھی کرتے تھے۔
14 رمضان المبارک 1447ھ (تقریباً مارچ 2026) کی رات کا واقعہ ہے۔ میں رات کو سونے کی تیاری کر رہا تھا تو میں نے سوچا کہ اپنی بیوی کو پیغام بھیج کر بات کر لیتا ہوں۔ میں نے اپنے دوسرے نمبر سے اسے میسج کیا۔ اس کے بعد فوراً اس نے وہ نمبر کسی دوسرے شخص کو دے دیا جس سے وہ اس وقت بات کر رہی تھی۔ وہ ایک غیر محرم لڑکا تھا جسے میں نہیں جانتا تھا۔مجھے اس بات پر سخت تشویش ہوئی، اس لیے میں نے اس معاملے کی تحقیق شروع کی اور تقریباً رات دو بجے اس کے گھر چلا گیا۔ اس سے پہلے میں نے اپنے ایک جاننے والے کے ذریعے پولیس اسٹیشن سے اس نمبر پر کال کروائی اور بتایا کہ اس نمبر سے مشکوک پیغامات آ رہے ہیں۔ اس لڑکے نے پولیس والے کو جواب دیا کہ اس نمبر سے اس کی منگیتر نے کال کی ہے۔جب میں اس کے گھر پہنچا تو وہ اس وقت بھی اسی لڑکے سے بات کر رہی تھی۔ میں نے دروازہ کھلوانے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ اس کے والد گھر میں موجود ہیں، لیکن بعد میں جب میں نے اس کے والد کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ گھر میں نہیں ہیں۔ اس طرح معلوم ہوا کہ اس نے جھوٹ بولا تھا۔
بعد میں میں دیوار کے اوپر سے گھر کے اندر گیا تو اس وقت بھی وہ اسی لڑکے سے فون پر بات کر رہی تھی۔ میں نے اس سے موبائل لیا اور پوچھا کہ وہ کس سے بات کر رہی ہے۔ ابتدا میں اس نے انکار کیا اور کہا کہ وہ کسی سے بات نہیں کر رہی۔ بعد میں اس نے کہا کہ اس کی ایک دوست نے اسے اس لڑکے کا نمبر دیا تھا۔ مزید سختی سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ جب اس کی والدہ اسپتال میں داخل تھیں، تو اسی دوران اس لڑکے سے اس کی بات چیت شروع ہوئی تھی اور تقریباً تین ماہ سے یہ رابطہ جاری تھا۔ میں نے اس کا موبائل دوبارہ چیک کیا تو اس میں معلوم ہوا کہ اس نے اپنی تصاویر بھی اس لڑکے کو بھیجی تھیں اور اس لڑکے نے بھی اپنی تصاویر اسے بھیجی تھیں۔ میں نے اس سے پوچھا تو پہلے اس نے انکار کیا، پھر اس نے اعتراف کیا کہ اس نے تصاویر بھیجی تھیں۔ میں نے اس سے یہ بھی پوچھا کہ کیا کبھی اس لڑکے سے ملاقات یا جسمانی رابطہ ہوا ہے؟ تو اس نے کہا کہ صرف ایک مرتبہ ہاتھ ملایا تھا۔
اس تمام صورتحال پر مجھے شدید غصہ اور صدمہ ہوا اور غصے میں آکر میں نے اسے دو تین تھپڑ بھی مار دیے۔ اسی دوران اس کی والدہ بھی آگئیں اور وہ بار بار مجھ سے کہنے لگیں کہ آپ لوگ اب ساتھ نہیں رہ سکتے، آپ اسے طلاق دے دیں۔میں نے ابتدا میں طلاق دینے سے انکار کیا اور کہا کہ میں طلاق نہیں دینا چاہتا، کیونکہ یہ خاندانی مسئلہ ہے اور اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے یہاں تک کہا کہ ہم اگلے دن رخصتی کر لیتے ہیں تاکہ مسئلہ ختم ہو جائے۔ لیکن اس کی والدہ مسلسل طلاق دینے کا مطالبہ کرتی رہیں۔
آخر میں میں نے کہا کہ میں نماز پڑھ کر فیصلہ کروں گا۔ اس کے بعد میں نے نماز ادا کی اور واپس آیا تو اس کی والدہ دوبارہ طلاق کا مطالبہ کرنے لگیں۔پھر میں نے اپنی بیوی کو اپنے سامنے بیٹھا کر پوچھا کہ کیا تم طلاق چاہتی ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں، دے دو۔ اس کے بعد میں نے غصے اور شدید ذہنی دباؤ کی حالت میں تقریباً تیس سیکنڈ کے اندر تین مرتبہ یہ الفاظ کہے: “طلاق، طلاق، طلاق” اب میں اس مسئلے کی وجہ سے بہت پریشان ہوں اور درج ذیل امور کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں:
1. کیا اس طرح ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ طلاق کہنے سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں؟
2. کیا اس صورت میں رجوع یا صلح کی کوئی گنجائش باقی ہے؟
3. چونکہ ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی، اس لیے کیا اس کا حکم مختلف ہوگا؟
4. کیا دوبارہ نکاح ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ممکن ہے تو کس صورت میں؟
براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں اس مسئلے کا واضح اور مفصل فتویٰ عطا فرمائیں تاکہ میری رہنمائی ہو سکے۔
جزاکم اللہ خیراً، والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں اگر سائل اور اس کی بىوى کے درمیان واقعۃً رخصتی و خلوتِ صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی جس میں ہمبستری سے کوئی شرعی، طبعی یا حسی مانع موجود نہ ہو) واقع نہ ہوئی ہو، اور اس دوران غصہ کی حالت میں سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "طلاق، طلاق، طلاق " تین بار کہہ دیے ہوں، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر پہلے لفظ سے ہی ایک طلاقِ بائن واقع ہوکر دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے، جبکہ باقی الفاظ محلِ طلاق نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہو چکے ہیں، اور رخصتی و خلوتِ صحیحہ کے عدمِ وقوع کی وجہ سے عورت پر عدت بھی لازم نہیں، چنانچہ اب اگر یہ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر آمادہ ہوں ،تو اس کے لئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے دوبارہ نکاح کرنا لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد سائل کے پاس آئندہ کیلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہىے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) اهـ
وفي رد المحتار تحت قوله: (وإن فرق بوصف) نحو أنت طالق واحدة وواحدة وواحدة، أو خبر نحو: أنت طالق طالق طالق، أو أجمل نحو: أنت طالق أنت طالق أنت طالق ح، ومثله في شرح الملتقى. (قوله بعطف) أي في الثلاثة سواء كان بالواو أو الفاء أو ثم أو بل اهـ [كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، ج:3 ص:286 ط: سعيد)]
وفي الفتاوى الهندية: أربع من النساء لا عدة عليهن: المطلقة قبل الدخول اهـ [كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج:1 ص:526 ط: دار الفكر بيروت]
وفي بدائع الصنائع: فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد (إلى قوله) ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية اهـ [كتاب الطلاق، فصل في حكم الطلاق البائن، ج:3 ص:187 ط: دار الكتب العلمية]
وفي الفتاوى الهندية: إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها اهـ [كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:1 ص:472 ط: دار الفكر بيروت)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد یعقوب علی معظم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92998کی تصدیق کریں
1     5
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • تحریر کردہ طلاق نامہ کے ذریعہ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 6
  • مذاق میں بیوی کو طلاق کاغذ پر لکھ کر دیدی

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیوی کو حرام زادی کہنے سے نکاح متاثرہوگا؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 2
  • دل دل میں طلاق دینا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • ایک کاغذپر تین طلاق لکھ کر دینے سے کتنی طلاقیں واقع ہوں گی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • تم میری بہن کی طرح ہو کہنے سے بیوی پر طلاق واقع ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • بیرون ملک شادی کے لئے پہلی بیوی کے نام عارضی طلاق نام بنوانا

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 2
  • پچپن میں نکاح کے بعد بالغ ہونے پر لڑکا پاگل ہوگیا طلاق کیسے ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   طلاق 1
  • اسلام قبول کرنے کے بعد عیسائی شوہرسے نکاح خودبخودختم ہوجاتاہے؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   طلاق 0
  • طلاق نامہ پر دستخط کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • حمل کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • طلاق کا واقعہ سنانے سے مزید طلاق واقع ہونے سے متعلق سوال

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • "میں تم کو طلاق دیتا ہوں "بیوی کو غصہ میں تین دفعہ بول دینا

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں, سسر کو تین بار کہہ دینا کہ" میں نے تیری بیٹی کو طلاق دیدی "

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو ڈرانے کے لیے الفاظ طلاق بولنا

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • واٹس اپ کی ریکارڈنگ کے ذریعے طلاق

    یونیکوڈ   انگلش   طلاق 2
  • بیوی کی غیر موجودگی میں اس کی طرف نسبت کئے بغیر طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • وقوع طلاق کے لیے گواہ شرط ہے؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • یونین کونسل کی جانب سے پہلی طلاق کا نوٹس بھیجے جانے سے مزید وقوعِ طلاق کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • بیوی کو طلاق کا مسئلہ سمجھاتے ہوئے الفاظ طلاق کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 1
  • موبائل پر طلاق دینے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 2
  • لفظِ " فارغ "سے طلاق واقع ہونے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 4
  • بیوی نے کہا کہ "مہر دو اور جانے دو" جواب میں شوہر کا "ٹھیک ہے " کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   طلاق 0
  • "طلاق لو اور جاؤ" کہنے سے طلاق ہوگی یا نہیں؟

    یونیکوڈ   طلاق 0
Related Topics متعلقه موضوعات