شوہر نے تین سے زائد طلاقیں دیں اور حلالہ پر راضی نہ ہوا بیوی نے شوہر کے علم میں لائے بغیر حلالہ شرعی کیا ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے بعد اس شوہر سے طے شدہ طریقے پر طلاق لی اور عدت کے بعد واپس پہلے شوہر سے نکاح کیا، اب احساس گناہ تنگ کررہا ہے کہ پتہ نہیں یہ سب درست تھا بھی یا نہیں، دن رات ندامت میں گزر رہے ہیں، توبہ کرنا چاہتے ہیں، کیا اب اس شوہر کے ساتھ رہنا درست ہے یا علحدگی کرنا ہوگی، کیونکہ اس حلالہ کو تو شوہر کے لئے سزا کہا گیا ہے، مگر یہاں تو بیوی نے سزا بھگتی، شوہر کو تو پتہ ہی نہیں وہ تو پُرسکون ہے۔ فوری رہنمائی فرمائیں اور توبہ کرنے میں مدد فراہم کریں۔ شکریہ
صورت مسئولہ میں اگر سائلہ نے پہلے شوہر کی جانب سے دی گئی طلاقوں کے بعد باقاعدہ اس کی عدت گزار کر دوسری جگہ باضابطہ نکاح کر لیا ہو، اور اس نکاح کے نتیجے میں میاں بیوی کے مابین ازدواجى تعلق بھی قائم ہوا ہو، پھر شوہر ثانی کی طرف سے طلاق دیئے جانے کے بعد سائلہ نے اس کی عدت گزا ر کر سابقہ شوہر سے دوبارہ نکاح کر لیا ہو تو اگرچہ سابقہ شوہر کو اس عقد ثانی کا علم نہ ہو، تب بھی یہ نکاح درست منعقد ہو چکا ہے، اور ان کا ساتھ رہنا بھی جائز و درست ہے، اس لیے سائلہ کو بلا وجہ شکوک و شبہات میں پڑھنے سے احتراز چاہیے۔
كما في القران الكريم: ﴿فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥۗ﴾ [سورة البقرة: ٢٣٠]
وفي صحيح البخاري: عن عائشة رضي الله عنها، «أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي ﷺ: أتحل للأول؟ قال: لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول. اهـ [كتاب الطلاق، باب من أجاز طلاق الثلاث، رقم الحديث (٥٢٦١) ج:٧ ص: ٤٣ ط: بالمطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر المحمية]
وفي بدائع الصنائع: وأما المعقول فهو أن الحرمة الغليظة إنما تثبت عقوبة للزوج الأول بما أقدم على الطلاق الثلاث الذي هو مكروه شرعا زجرا، ومنعا له عن ذلك لكن إذا تفكر في حرمتها عليه إلا بزوج آخر - الذي تنفر منه الطباع السليمة، وتكرهه - انزجر عن ذلك، ومعلوم أن العقد بنفسه لا تنفر عنه الطباع ولا تكرهه إذ لا يشتد على المرأة مجرد النكاح ما لم يتصل به الجماع فكان الدخول شرطا فيه ليكون زجرا له، ومنعا عن ارتكابه فكان الجماع مضمرا في الآية الكريمة كأنه قال عز وجل: حتى تنكح زوجا غيره ويجامعهااهـ [كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل في شرائط رجوع المبتوتة لزوجها، ج:3 ص:188 ط: دار الكتب العلمية]
وفي الفتاوى الهندية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اهـ [الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج:١ ص: ٤٧٣ ط: رشيدية]
وفي الدر المختار: (وكره) التزوج للثاني (تحريما) لحديث «لعن المحلل والمحلل له» (بشرط التحليل) كتزوجتك على أن أحللك (وإن حلت للأول) (إلى قوله) (أما إذا أضمر ذلك لا) يكره (وكان) الرجل (مأجورا) لقصد الإصلاح، وتأويل اللعن إذا شرط الأجر ذكره البزازي اهـ [كتاب الطلاق، باب الرجعة، ج: 3 ص: 415 ط: سعيد]