میری یہ عرض ہے کہ جو حافظِ قرآن داڑھی منڈواتا ہو یا کٹواتا ہو ، اس کی امامت کیسی ہے؟ جبکہ اور کوئی حافظ صاحب بھی موجود ہو یا نہ ہو ؟
مذکور شخص شرعاً فاسق ہے اور ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں ، تاہم اگر وہ آگے ہو گیا تو ایسے شخص کی اقتداء میں نماز مکروہِ تحریمی ادا ہوجاتی ہے، لہٰذا اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار : و يكره إمامة عبد و أعرابي و فاسق و أعمى اھ (1/ 559)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و فاسق) من الفسق : و هو الخروج عن الاستقامة ، و لعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر ، و الزاني و آكل الربا و نحو ذلك اھ (1/ 560)۔