سُنا ہے کہ وظائف کی زیادتی سے رُجعت ہو جاتی ہے، رُجعت کیا ہوتی ہے؟ اس کی اصل وجہ اور علاج کیا ہے ؟
بعض اہلِ سلوک کے ہاں رجعت اس کیفیت کو کہا جاتا ہے کہ آدمی عبادت یا وظائف میں کچھ پیش رفت کے بعد سستی، بے دلی یا سابقہ حالت کی طرف لوٹنے لگے۔
یہ کیفیت وظائف کی کثرت کی وجہ سے بذاتِ خود لازم نہیں آتی، بلکہ اس کے اسباب میں بے اعتدالی، اپنی طاقت سے زیادہ مشغولیت، مناسب رہنمائی کا فقدان، ذہنی یا جسمانی تھکن اور وساوس وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔
جبکہ شریعتِ مطہرہ میں اصل مطلوب اعتدال اور دوام ہے، اس لیے حد سے زیادہ وظائف اختیار کرنا مطلوب نہیں، بلکہ اپنی استطاعت کے مطابق مستقل عمل کرنا بہتر ہے۔
لہٰذا اس کا علاج یہ ہے کہ وظائف و عبادات میں اعتدال اورکسی معتبر عالم یا مربی کی نگرانی میں عمل کیا جائے، جسمانی و ذہنی توازن کا خیال رکھتےہوئےوسوسوں اورغیرضروری خیالات کو اہمیت نہ دی جائے۔
كما في الإتقان في علوم القرآن للسيوطي: الإجازة من الشيخ غير شرط في جواز التصدي للإقراء والإفادة فمن علم من نفسه الأهلية جاز له ذلك وإن لم يجزه أحد وعلى ذلك السلف الأولون والصدر الصالح وكذلك في كل علم وفي الإقراء والإفتاء خلافا لما يتوهمه الأغبياء من اعتقاد كونها شرطا. وإنما اصطلح الناس على الإجازة لأن أهلية الشخص لا يعلمها غالبا من يريد الأخذ عنه من المبتدئين ونحوهم لقصور مقامهم عن ذلك والبحث عن الأهلية قبل الأخذ شرط فجعلت الإجازة كالشهادة من الشيخ للمجاز بالأهلية.اهـ (ج: 1، ص: 355، ط: الهيئة العامة المصرية للكتاب)