السلام عليكم، مفتی صاحب، آپ سے ایک اہم مسئلے میں وضاحت درکار ہے، براہِ مہربانی جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں۔ شکریہ۔
مفتی صاحب، تقریباً 3 مہینہ پہلے میری خاندان سے باہر شادی ہوئی ہے۔ شادی کا فوراً بعد سے ہم دونوں میں کچھ باتوں کی وجہ سے مسئلے اسٹارٹ ہوگئے، اور کسی بات پر غصہ میں آ کر مجھ سے ایک طلاق ادا ہوگئی۔ طلاق کے بعد بھی مسئلے بڑھتے گئے، اور میں نے لڑکی کے گھر والوں سے رجوع کرنے کے لیے ٹائم مانگا تاکہ میں سوچ سمجھ کر رشتہ قائم رکھنے کا فیصلہ کرسکوں۔ طلاق کے بعد بیوی نے میرے ساتھ رہنے کے بجائے اپنے گھر والوں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا، اور اسی دوران ہمارے تعلقات مزید خراب ہوتے چلے گئے۔ شادی سے پہلے بھی میں اس رشتہ پر راضی نہیں تھا، لیکن رشتہ طے ہوجانے کے بعد دونوں طرف کا پریشر میں آ کر شادی کرنی پڑگئی۔ رشتے کے وقت لڑکی کے گھر والوں نے لڑکی کی عمر اور ہائٹ بھی غلط بتائی، جس کا ہمارے گھر والوں کو اس وقت اندازہ نہیں ہوسکا، لیکن شادی کے ٹائم پتہ چلا، جس سے میرا دل مزید خراب ہوگیا۔ 2-3 مہینوں میں ہی لڑکی کی عادت اور طور طریقہ سے اندازہ ہوگیا کہ لڑکی کے ساتھ مینٹل کمپیٹیبلیٹی ممکن نظر نہیں آتی، اور لڑکی میری مدر اور مجھ سے زبان درازی اور بدتمیزی بھی کرچکی ہے، جس کی وجہ سے دل مزید خراب ہوگیا ہے۔ مفتی صاحب، ان سب حالات کی وجہ سے میں اپنی بیوی سے رجوع کرنے پر تیار نہیں ہوں، لیکن میری بیوی اور اس کا گھر والے مجھے پریشرائز کر رہے ہیں کہ میں زبردستی رجوع کرلوں۔مفتی صاحب، میرے یہ سب باتیں بھول کر آگے بڑھنا ممکن نہیں لگتا، اور لڑکی کی ایج اور ہائٹ پر غلط بیانی کرنے کی وجہ سے میرا دل اس رشتہ کو کنٹینیو کرنے پر راضی نہیں ہے۔ مفتی صاحب، مجھے براہِ مہربانی یہ بتائیں کہ اگر میں رجوع نہ کروں، 3 منتھ یا 3 حیض کے اندر، اور لڑکی سے علیحدگی قرار پا جائے، تو میں گناہگار اور ظالم تو نہیں ہوجاؤں گا؟ کیونکہ میرا اس لڑکی کے ساتھ گزارا کرنا مجھے ممکن نظر نہیں آتا، اور میں پوری زندگی کمپرومائز کر کے، اور خود یا کسی اور کو تکلیف میں رکھ کر نہیں گزارنا چاہتا۔پلیز، اس مسئلے میں میری رہنمائی فرما دیں، آپ کی نوازش ہوگی۔
واضح ہو کہ طلاق رجعی دینے کے بعد رجوع کرنا خالص شوہر کا حق ہے، اس پر شوہر کو مجبور کرنا یا اس کے ساتھ زبردستی کرنے کا کسی کو اختیار نہیں اور نہ ہی شوہر اس کا پابند ہے، اس لیے اگر سائل واقعۃً حدود اللہ کی پاسداری کرتے ہوئے اس رشتہ کو برقرار نہ رکھ سکتا ہو تو رجوع کئے بغیر اس رشتہ کو ختم کر سکتا ہے، تاہم شادی کے بعد میاں بیوی میں چھوٹی موٹی باتوں پر اختلاف ہو جانا یا قدکاٹ و عمر کا فرق سامنے اآجانا ایسا معاملہ نہیں کہ اس کی وجہ سے ایک لڑکی کے مستقبل کو داؤ پر لگایا جائے، اس لیے اگر افہام وتفہیم کے ساتھ یہ معاملہ حل ہو کر دونوں کا گھر بس سکتا ہو، تو سوال میں مذکور عوارض کی بنیاد پر سائل کا یہ رشتہ ختم کرنا مناسب نہیں، بلکہ دونوں طرف کے خاندانوں کے پرىشر اور دباؤ كے بجائے بات چیت کے ذریعہ اس معاملہ کو حل کر کے رجوع یا تجدید نکاح کے ساتھ اس رشتہ کو بحال کرنا چاہیے۔
كما في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي: الرجعة حق خالص للزوج لا يتوقف على رضا المرأة كالطلاق اهـ [الرجعة، إعلام المرأة بالرجعة، ج:9 ص:6995 ط: دار الفكر سورية)]
وفي شرح مشكلات القدوري: لأن الرجعة حق الزوج، فيبطل بإنكاره، والرجعة تصح في المدخولة، ولا تصح في غير المدخولة اهـ [كتاب الرجعة، ج:2 ص:186 ط: المكتبة الشاملة)]
وفي رد المحتار: وأما الطلاق فإن الأصل فيه الحظر، بمعنى أنه محظور إلا لعارض يبيحه، وهو معنى قولهم الأصل فيه الحظر والإباحة للحاجة إلى الخلاص، فإذا كان بلا سبب أصلا لم يكن فيه حاجة إلى الخلاص بل يكون حمقا وسفاهة رأي ومجرد كفران النعمة وإخلاص الإيذاء بها وبأهلها وأولادها، ولهذا قالوا: إن سببه الحاجة إلى الخلاص عند تباين الأخلاق وعروض البغضاء الموجبة عدم إقامة حدود الله تعالى، فليست الحاجة مختصة بالكبر والريبة كما قيل، بل هي أعم كما اختاره في الفتح. [كتاب الطلاق، ج:3 ص:228 ط: سعيد]