میرا لڑکا محمد فراز جسکی عمر 32 سال ہے اسکی شادی پانچ ( 5 )ماہ چلی اور میاں بیوی میں سخت ناچاقی اور اختلافات پیدا ہو گئے ، لڑکی پانچ (5) ماہ بعد اپنے گھر چلی گئی اسکے بعد چار (4)ماہ پہلے تقریباً لڑکے نے لڑکی کو فون کیا اور یہ الفاظ کہے، "سد رہ بی بی آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ، میرا تم سے واسطہ ختم اور میرے گھر کبھی مت آنا" یہ الفاظ کہنے کے بعد لڑکے نے طلاق نامہ جو کہ مسلک ہے دو گواہوں کے ساتھ اس پر دستخط کر دیے. جس دوران دستخط کر رہا تھا وڈیو بھی بنوائی جس میں ویڈیو بنانے والے نے پوچھا کہ طلاق اپنی رضا خوشی سے دے رہے ہو اس نے کہا اپنی رضا اور بنا کسی دباؤ کے دے رہا ہوں ، اس بارے میں فتوی چاہئیے کہ کوئی گنجائش ہے یا نہیں ۔
(نوٹ) سائل سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ مذکور الفاظ "سدرہ بی بی آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، الخ" سے بھی نیت طلاق دینے کی تھی اور ان الفاظ کے ایک ہفتہ بعد طلاق نامہ پر دستخط کئے۔
صورت مسئولہ میں سائل کے بیٹے نے جب مذکور الفاظ " سدرہ بی بی آج کے بعد میرا تم سے کوئی تعلق واسطہ نہیں الخ" کہے اور اس سے طلاق کی نیت تھی تو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی تھی ، اس کے ایک ہفتہ بعد منسلکہ طلاق نامہ بنواکر اس پر دستخط کردینے سے اسکی بیوی پر مزید بقیہ دو طلاقیں بھی واقع ہوکر مجموعی طور پر تینوں طلاقوں کے ساتھ حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی،اب رجوع نہیں ہوسکتا،اور حلالۂ شرعیہ کےبغیر باہم عقد ِنکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ ایامِ عدت گزرنےکےبعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنےمیں بھی آزاد ہے۔
کما في بدائع الصنائع : و أما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك ، و زوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة الخ ( فصل وأما حكم البائن ، ج:٣ ، ص:١٨٧، مط : سعيد )
و في الفتاوى الهندية : وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو. ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة ، ج :٢، ص:٢٥٥، مط : رشيدية )
وفی الھدایۃ: وان کان الطلاق ثلاثا فی المرأۃ أو ثیتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی اتنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا ویدخل بھا ثم یطلقھا او یموت الخ(کتاب الطلاق ،ج:٢، ص:ـ٩٢، مط: انعامیۃ)
وفي درر الأحكام: (الصريح يلحق الصريح) أي إذا قال أنت طالق أنت طالق أو قال أنت طالق وطالق تطلق ثنتين وهو ظاهر.
(و) الصريح يلحق (البائن) أي إذا أبانها، ثم قال أنت طالق يقع الطلاق؛(كتاب الطلاق، ج: ١، ص: ٣٧٠، مط: دار أحياء الكتب العربية)