میں اپنی بیوی سے میسج پر بات کررہے تھا، میں نے اس کو ڈرا نے کے لیے3 بارطلاق لکھ کر سینڈ کردیا مگر طلاق کا لفظ غلط لکھا تھا میں نے اور فوراً میں نے ڈیلیٹ کر دیا مسیج tlq میں نے ایسا لکھا تھا مگر میں نے مُنہ یا دل سے نہیں بولا ،نہ ایسی کوئی نیت تھی اور نہ میں نے اپنی بیوی کا نام لیا، کچھ بھی نہیں بولا، بس tlq لکھا تھا ،اس حوالے سےمیری رہنمائی کریں۔ شکریہ
سائل نے اگرچہ "طلاق" لفظ کی پوری اور مکمل اسپیلنگ (Talaq) نہیں لکھی، بلکہ فقط"Tlq" لکھ کر بذریعہ میسج اپنی بیوی کو بھیج دیا، لیکن مذکور مخفف لفظ بھی چونکہ طلاق کے معنیٰ میں صریح ہے اور عرف میں اس سے طلاق ہی سمجھی جاتی ہے، لہٰذا اگر سائل نے اپنی بیوی کے ساتھ بذریعہ میسج گفتگو کے دوران، جبکہ بیوی کی طرف سے طلاق یا علیحدگی کا مطالبہ ہو، یا میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا اور رشتہ ختم کرنے سے متعلق گفتگو ہورہی ہو، اس دوران اپنی بیوی کو تین مرتبہ "Tlq" لکھ کر بھیج دئیے ہوں، تو اگرچہ اس نے یہ الفاظ ڈرانے کی غرض سے لکھے ہوں اور دل میں طلاق دینے کی نیت بھی نہ ہو، تب بھی چونکہ صریح الفاظ سے بغیر نیت و ارادہ کے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے مذکور الفاظ بذریعہ میسج تین مرتبہ بھیجنے کی صورت میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب نہ رجوع ممکن ہے اور نہ ہی دوبارہ عقدِ نکاح شرعاً درست ہے، البتہ خاتون عدت گزارنے کے بعد کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنے میں شرعاً آزاد ہے۔
کما فی الدر المختار مع رد المحتار:(ويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،ويدخل نحو طلاغ وتلاغ وطلاك وتلاك أو " ط ل ق " أو " طلاق باش " بلا فرق بين عالم وجاهل، وإن قال تعمدته تخويفا لم يصدق قضاء إلا إذا أشهد عليه قبله وبه يفتى.
مطلب من الصريح الألفاظ المصحفة (قوله ويدخل نحو طلاغ وتلاغ إلخ) أي بالغين المعجمة. قال في البحر: ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة فزاد على ما هنا ثلاثا. وزاد في النهر إبدال القاف لاما. قال ط: وينبغي أن يقال إن فاء الكلمة إما طاء أو تاء واللام إما قاف أو عين أو غين أو كاف أو لام واثنان في خمسة بعشرة تسعة منها مصحفة، وهي ما عدا الطاء مع القاف اه.(248/3، ط: دار الفکر)
وفی البحر الرائق: ومنه الألفاظ المصحفة وهي خمسة: تلاق وتلاغ وطلاغ وطلاك وتلاك فيقع قضاء ولا يصدق إلا إذا أشهد على ذلك قبل التكلم بأن قال امرأتي تطلب مني الطلاق وأنا لا أطلق فأقول: هذا ولا فرق بين العالم، والجاهل وعليه الفتوى. (271/3، ط: دار الکتاب الاسلامی)