السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !ایک شرعی مسئلہ کے بارے میں رہنمائی درکار ہے۔ میاں بیوی کے درمیان اختلافات ہو گئے تھے اور شوہر نے بیوی سے بات چیت بھی بند کر دی تھی۔ کچھ عرصہ بعد بیوی نے پیغام کے ذریعے شوہر سے کہا کہ طلاق دے دو ورنہ خلع لے لو ں گی۔لیکن یہ جذبات میں بات کہی تھی ،اس پر شوہر نے طلاق کے کاغذات بھیج دیے، طلاق نامہ میں یہ بھی لکھا تھا کہ ”اس لڑکی نے مجھ سے میسج پر طلاق مانگی ہے“ اور ساتھ یہ بھی تحریر تھا کہ نکاح کے وقت مہر میں دیا گیا سونا واپس کر دیا جائے۔ یہ تمام معاملہ عدالت کے بغیر طے ہوا۔ طلاق کے بعد تقریباً چار سال گزر گئے، لیکن اس دوران شوہر یا اس کے گھر والوں کی طرف سے سونا واپس لینے کے لیے کوئی مطالبہ یا رابطہ نہیں کیا گیا۔ بعد میں اس لڑکی نے دینی تعلیم حاصل کی ،تو اسے خیال آیا کہ چونکہ اس نے طلاق کا مطالبہ کیا تھا، اس لیے شاید یہ خلع کی صورت ہو اور مہر واپس کرنا چاہیے تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ شرعاً اس صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا اس عورت پر مہر (سونا) واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟
سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ بیوی نے فقط طلاق کا مطالبہ کیا تھا یا میاں بیوی کے درمیان حق مہر کی معافی کے عوض طلاق ہوئی، اس لئے حق مہر کے مد میں ملنے والے سونے کو واپس کرنے یا نہ کرنے کے متعلق کوئی حتمی جواب نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ اگر بیوی نے فقط مطالبہ کیا تھا اور مہرکی معافی وغیرہ کے متعلق کوئی بات طے نہیں ہوئی تھی تو محض بیوی کے مطالبے پر طلاق دینے کی وجہ سے بیوی کے ذمہ حق مہر میں ملنے والا سونا واپس کرنا لازم نہ ہوگا،تاہم اگر سوال کی نوعیت مختلف ہوتو اس کی مکمل تفصیل اور معاہدے کاپی ارسال کرکے دوبارہ ای میل کیا جائے انشاء اللہ حکم شرعی سے آگاہ کردیاجائےگا۔
کما فی رد المحتار: ولذا قال في الخانية : ولوقال: خالعتك على كذا وسمى مالا معلوما لا يقع الطلاق ما لم تقبل، كما لو قال " طلقتك " على ألف اهـ أي لأنه معلق على القبول. وأما إذا لم يذكر المال فلا يكون معلقا على القبول معنى فيقع الطلاق وإن لم تقبل تأمل.(باب الخلع،ج:3،ص:442،ط:سعید)