جناب مفتی صاحب سے رہنمائی درکار ہے یو بی ایل بینک آمین اسلامک برانچ سے "میرا گھر میرا آشیانہ "سکیم کے تحت مشارکہ بیس پر مکان بنانے کیلئے لون لے سکتے ہیں ؟۔چونکہ یہ سکیم سٹیٹ بینک کا لانچ شدہ سکیم ہے اور انکا یہ کہنا ہے کہ یہ Deminishing Musharraka کے بنیاد پر ہے ۔آپ حضرت سے رہنمائی درکار ہے ۔
واضح ہو کہ اسلامی بینکاری میں لون نہیں دیا جاتا بلکہ مطلوبہ چیز خریدنے کے بعد کسٹمر کے ساتھ شرعی اصول و ضوابط کے مطابق معاملہ کیا جاتا ہے، چنانچہ اگر یو بی ایل امین (UBL Ameen) کے معاملات مستند مفتیانِ کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہوں اور سائل کو ان کی رائے پر اعتماد ہو، تو شرعاً سائل کے لیے یو بی ایل امین اسلامک برانچ سے 'میرا گھر میرا آشیانہ' اسکیم کے تحت مشارکہ کی بنیاد پر مکان بنانے کے لیے معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔
کما فی الدر المختار :(وهي ضربان: شركة ملك، وهي أن يملك متعدد) اثنان فأكثر (عينا) أو حفظا كثوب هبه الريح في دارهما فإنهما شريكان في الحفظ قهستاني (أو دينا) على ما هو الحق؛ فلو دفع المديون لأحدهما فللآخر الرجوع بنصف -اھ(كتاب الشركة،ج:4،ص:299،ط:دار الفكر)
و فیہ ایضاً:وتفسد -الإجارة- بالشيوع إلا إذا آجر من شريكه.اھ(باب الإجارة الفاسدة،ج:9،ص:65،ط:دار الکتب العلمیۃ)
و فی بحوث في قضايا فقهية معاصرة:أما إذا كان المقصود بناء البيت على أرض خالية، فيمكن استخدام نفس الطريق في شراء الأرض, بأن يقع شراؤها على سبيل الاشتراك من الممول والعميل، ثم يبيع الممول حصته في الأرض إلى العميل مؤجلا بثمن أكثر. فإن كانت الأرض مملوكة للعميل، أو صارت ملكا له بهذا الطريق وأراد العميل التمويل للبناء عليها، فإنه يمكن للممول والعميل أن يبنيا البيت على أساس المشاركة، فيدفع هذا نصف نفقة البناء، ويدفع ذلك النصف الآخر، فيقع البناء مشاعا بينهما بالنصف، وحينما يتم البناء يمكن للممول أن يبيع حصته من البناء إلى شريكة العميل مؤجلا بربح، وبيع الرجل حصته من البناء إلى شريكه مما لا نزاع في جوازه، وإن كان هناك خلاف في بيعها إلى الأجنبي، يقول ابن عابدين في رد المحتار: (ولو باع أحد الشريكين في البناء حصته لأجنبي، لا يجوز، ولشريكه جاز) .اھ(باب الطرق المشروعة للتمويل العقاري،ص:247،ط:دار القلم)