میرے شوہر نے مجھے معلق طلاق دی ہے کہ اگرتم نے ۔۔۔۔سے بات کی فون پر، میسج پر یا آمنے سامنے، تو میں نے اللہ کو گواہ بنا کر تین طلاق دی تم کو، میں بازار گئی تھی بہن اور خالہ کے ساتھ، وہاں وہ ملا، اس نے مجھے سلام کیا اور میں نے اسے جواب دیا، مگر میں اس کودیکھ کر ڈر گئی تھی، میری بہن کو معلق طلاق کا علم ہے اور خالہ کو نہیں، مگر بہن کہتی ہے تم نے اس سے اور بات نہیں کی، مگر خالہ کہتی ہیں کہ اس کے سوال کا جواب دیا تم نے کہ بیٹا کیسا ہے اور آپ کیسی ہیں، ہاں دھیرے سے دیے، ڈری ہوئی تھیں مگر دیے تھے جو،اب بہن کہتی ہے طلاق نہیں ہوئی، گھر والوں نے کسی سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی، اس لیے یہ لوگ مجھے واپس شوہر کے پاس بھیج رہے ہیں، اب آپ رہنمائی کر دیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں، کیونکہ میں اللہ کو ناراض نہیں کرنا چاہتی کوئی گناہ کر کے۔ جزاک اللہ
سائلہ کے شوہر نے جب اپنی بیوى کو مذکور الفاظ " اگر تم نے ۔۔۔۔ سے بات کی فون پر، میسج پر یا آمنے سامنے، تو میں نے اللہ کو گواہ بنا کر تین طلاق دی تم کو " کہہ دیئے،تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں معلق ہوچکی تھیں ، اور فقہاء کرام نے سلام کے جواب کو بھی کلام شمار کیا ہے،چنانچہ اسکے بعد جب سائلہ نےبازار میں مذکور شخص کے سلام کا جواب دیا ، تو اسی وقت سے سائلہ پر معلق کردہ تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا، اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت عدت (تین ماہواریاں) گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
كما في حاشية ابن عابدين:تحت(قوله وقصد إسماع المحلوف عليه) أي ولم يقصد خطابه مع الحائط بل قصد خطاب الحائط فقط، ولذا قال في البحر وغيره: لو سلم على قوم هو فيهم حنث إلا أن لا يقصده فيدين اھ(كتاب الأيمان،ج:٣،ص:٧٩١،ط:سعيد)
وفي الهندية:وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق اھ(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما،ج:١،ص:٤٢٠،ط:ماجديه)
وفيها ايضاََ: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير اھ(فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به،ج:١،ص:٤٧٣،ط:ماجدية)
وفيها ايضا: ولو قال لها: إن كلمت فلانا فأنت طالق وقال لها أيضا: إن كلمت إنسانا فأنت طالق فكلم فلانا طلقت تطليقتين اھ(الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما،ج:١،ص:٤٢٨،ط:ماجدية)