کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو کہا میں طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں میں طلاق دیتا ہوں اب وہ شخص حلفا کہتا ہے کہ میری مراد ایک طلاق تھی میں نے حلفاََ بعد میں دو بار بطور تاکید کےالفاظ تاکیدی بولے اور اب رجوع کر لیا ہے ،تاکیدا کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا اب رجوع ہو سکتا ہے یا طلاق مغلظہ ہو گی ؟
صور ت مسؤلہ میں مذکور شخص نے جب اپنی بیوی کو رخصتی و خلوت صحیحہ کے بعد تین بارمذکور الفاظ "میں طلاق دیتا ہوں " کہہ دئیے، اگر چہ ایک طلاق دینے کی نیت سے کہے ہوں، تب بھی قضاء ً ان الفاظ سےاس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ عورت ایام عدت گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کمافی الھندیة : وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا اھ (کتاب الطلاق الفصل الاول فی الطلاق الصریح ج:1 ،ص:355 مط:ماجدیة)۔
وفیھا أیضاً: رجل قال لامرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق فقال عنيت بالأولى الطلاق وبالثانية والثالثة إفهامها صدق ديانة وفي القضاء طلقت ثلاثا كذا في فتاوى قاضي خان اھ(الفصل الأول في الطلاق الصريح ج:1 ،ص:356 مط: دار الفكر بيروت)۔
وفی الدر المختار : [فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين اھ (باب طلاق غیر مدخول بہا ج:3،ص:293، مط: سعید )۔