لڑائی کے دوران بیوی شوہر سے کہتی ہے کہ تمہاری آمدنی مجھ پر حرام ہے اور شوہر کہتا ہے: اگر میری آمدنی حرام ہے تو تم مجھ پر حرام ہو، اب شوہر کا دعویٰ ہے کہ اس کا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، براہ کرم وضاحت فرمائیں۔
واضح ہو کہ لفظ حرام طلاق کے باب میں صریح بائن کے حکم میں ہے، اور اس سے بلا نیت بھی طلاق واقع ہو جا تی ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کے مذکور جملہ " تمہاری آمدنی مجھ پر حرام ہے" کے جواب میں اس کو مذکورالفاظ " اگر میری آمدنی حرام ہے تو تم مجھ پر حرام ہو" کہہ دیئےتو اس سے اس کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہو گئی اور دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا، تاہم اگر میاں بیوی اب بھی ازدواجی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا چاہتے ہوں تو اس کیلئےباقاعدہ دو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجا ب و قبول کر تے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا، تاہم اس کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کے پاس فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا ، بشرطیکہ اس سے قبل کوئی طلاق نہ دی ہو، اس لیئے آیندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہو گی۔
كما في البحر الرائق: قوله وفي الفتاوى إذا قال لامرأته أنت علي حرام، والحرام عنده طلاق، ولكن لم ينو طلاقا وقع الطلاق) يعني قضاء لما ظهر من العرف في ذلك (إلى قوله) قلت المتعارف به إيقاع البائن كذا في البزازية فلو قال المصنف، ويقع البائن لكان أولى.اهـ (باب الإيلاء، ج: 4، ص: 75، ط: دار الكتاب الإسلامي)
وفي الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع).اهـ (باب الرجعة، ج: 3، ص: 409، ط: إيج إيم سعيد)